خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء) — Page 368
خطبات مسرور جلد 19 368 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 25 جون 2021ء لیے کچھ سرائے خانے بھی بنوائے ہوئے تھے۔بہر حال پھر آپ نے وہاں سے ایک بورا اناج کا نکالا اور چکنائی کا ڈبہ آپ نے لیا۔آپ نے فرمایا: اسے مجھے اٹھوا دو۔اسلم کہتے ہیں: میں نے کہا کہ آپ کی جگہ میں اٹھا لیتا ہوں۔حضرت عمرؓ نے دو یا تین مرتبہ فرمایا کہ مجھے یہ اٹھوا دو۔میں نے ہر دفعہ عرض کیا کہ آپ کی جگہ میں اسے اٹھا لیتا ہوں۔آخر حضرت عمرؓ نے فرمایا: تیر ابھلا ہو! کیا قیامت کے دن میرا بوجھ تم اٹھاؤ گے ؟ اس پر میں نے وہ بورا آپ پر لاد دیا۔پھر آپ اس بورے کو اپنی کمر پر لاد کر تیز قدموں سے چلے اور میں بھی تیزی سے آپ کے ساتھ چلا یہاں تک کہ ہم اس عورت کے پاس پہنچ گئے۔آپ نے وہ بوری اس کے پاس اتاری اور اس میں سے کچھ آٹا نکالا اور اس خاتون سے کہا کہ اسے ہنڈیا میں آہستہ آہستہ ڈالو اور میں اسے تمہارے لیے ہلا تا ہوں۔دوسری جگہ لکھا ہے کہ حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ تم آہستہ آہستہ آٹا ڈالو۔میں تمہارے لیے حریرہ تیار کر تاہوں۔پھر آپ ہنڈیا کے نیچے آگ سلگانے کے لیے پھونک مارنے لگے۔اسلم یعنی روایت کرنے والے کہتے ہیں کہ آپ (حضرت عمرؓ) بڑی اور کھنی داڑھی والے تھے۔میں نے دیکھا کہ دھواں آپ کی داڑھی کے اندر سے نکل رہا ہے۔یعنی دھواں اٹھتا تھا تو ان کے چہرے پر بھی پڑتا تھا، داڑھی کے اندر سے بھی گزر جاتا تھا۔جب ہنڈیا پک گئی تو آپ نے ہنڈیا کو نیچے اتارا۔آپ نے فرمایا کوئی برتن لاؤ۔وہ عورت بڑی پلیٹ لائی۔آپ نے اس میں کھانا ڈالا اور کہنے لگے تم ان بچوں کو کھلاؤ۔میں تمہارے لیے پھیلاتا ہوں تاکہ ٹھنڈ ا ہو جائے، یعنی اس کو مزید پھیلا کے دوسری جگہ ، دوسرے برتن میں ٹھنڈ ا کرتا ہوں۔پھر آپ مسلسل ایسا کرتے رہے یہاں تک کہ ان بچوں نے پیٹ بھر کر کھانا کھالیا اور جو بچ گیاوہ آپ نے اس کے پاس چھوڑ دیا۔اسلم کہتے ہیں: پھر آپ کھڑے ہوئے اور میں بھی آپ کے ساتھ کھڑا ہو گیا۔اس پر وہ عورت کہنے لگی اللہ تعالیٰ آپ کو بہترین جزا دے۔تم اس امر میں امیر المومنین سے زیادہ حقدار ہو یعنی جزا کے۔اس پر حضرت عمرؓ نے فرما یا بھلائی کی بات کہو۔جب تم امیر المومنین کے پاس جاؤ گی تو تم انشاء اللہ مجھے وہاں پاؤ گی۔بہر حال وہ کہتے ہیں پھر حضرت عمر وہاں سے ایک طرف ہٹ گئے۔پھر اس خاتون کی طرف منہ کر کے بیٹھ گئے۔میں نے آپ کی خدمت میں عرض کیا کہ کیا اس کے علاوہ اور بھی کوئی کام ہے۔آپ نے مجھ سے کوئی بات نہ کی یہاں تک کہ میں نے بچوں کو دیکھا کہ وہ ایک دوسرے سے کھیل رہے تھے اور ہنس رہے تھے اور تمام بچے پر سکون ہو کر سو گئے تو حضرت عمرؓ خدا کا شکر ادا کرتے ہوئے کھڑے ہوئے اور میری طرف متوجہ ہو کر فرمایا۔اے اسلم بھوک کی وجہ سے یہ بچے جاگ رہے تھے اور رورہے تھے۔میں نے پسند کیا کہ میں یہاں سے اس وقت تک نہ جاؤں جب تک کہ میں ان کی اس آرام کی حالت کو نہ دیکھ لوں جو میں نے ابھی دیکھی ہے۔ا ( تاريخ الطبرى لا بن جرير جلد 2 صفحه 67-568 سنة 23 دار الكتب العلمية بيروت 1987ء) (فرہنگ سیرت صفحہ 101 102 ، 172 زوار اکیڈمی پبلی کیشنزار دو بازار کراچی 2003ء) (سید نا عمر بن خطاب شخصیت اور کارنامے صفحہ 442 مکتبہ الفرقان ٹرسٹ ، خان گڑھ ضلع مظفر گڑھ پاکستان ) (لسان العرب زیر ماده ”حر) حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی اس واقعہ کو بیان کیا ہے۔آپؐ فرماتے ہیں کہ انسانی ضروریات کا ان لوگوں کے لیے مہیا کرنا جو ان کو یعنی ان ضروریات کو مہیا نہیں کر سکتے اسلامی حکومت کا فرض ہے۔