خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء) — Page 367
خطبات مسرور جلد 19 367 26 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 25 جون 2021ء خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفتہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 25 / جون 2021ء بمطابق 25 / احسان 1400 ہجری شمسی بمقام مسجد مبارک، اسلام آباد، ٹلفورڈ (سرے)، یو کے تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ذکر چل رہا تھا۔اس ضمن میں آج مزید بیان کروں گا۔زید بن اسلم سے روایت ہے کہ ان کے والد نے بیان کیا کہ میں ایک دفعہ حضرت عمر بن خطاب کے ساتھ حَيَّاهُ وَاقِم کی طرف گیا۔یہ دو حروں کے درمیان جگہ ہے۔حرہ سیاہ پتھریلی زمین کو کہتے ہیں۔مدینہ کے مشرق کی جانب حَماهُ وَاقِمُ ہے جس کو حہ بنو قریظہ بھی کہتے ہیں۔دوسراحَةُ الوَبُرَہ ہے جو مدینہ کے مغرب میں تین میل کے فاصلہ پر ہے۔بہر حال کہتے ہیں میں وہاں گیا۔جب ہم صرار مقام پر پہنچے تو ایک جگہ ایک آگ روشن تھی۔صرار بھی مدینہ سے تین میل کے فاصلہ پر ہے۔حضرت عمرؓ نے فرمایا: اے اسلم! میر اخیال ہے کہ یہ کوئی مسافر ہیں جن کو رات اور سردی نے روک رکھا ہے۔ہمارے ساتھ آؤ۔چنانچہ ہم تیز تیز چلتے ہوئے ان کے قریب پہنچے تو دیکھا کہ ایک عورت کے ساتھ اس کے کچھ بچے ہیں اور ایک ہنڈیا آگ پر چڑھی ہوئی ہے۔اس کے بچے بھوک کی وجہ سے بلک بلک کر رو رہے تھے۔حضرت عمر نے فرمایا۔السلام علیکم اے روشنی والو! آپ نے آگ والے کہنا پسند نہ کیا بلکہ روشنی والے کہا۔اس خاتون نے وعلیکم السلام کہا۔آپ نے فرمایا: کیا میں قریب آ سکتا ہوں ؟ اس عورت نے کہا: خیر سے آؤ ورنہ واپس لوٹ جاؤ۔مطلب کوئی خیر کی بات کرنی ہے تو آؤ ورنہ واپس لوٹ جاؤ۔آپ قریب ہو گئے۔پھر آپ نے فرمایا تم لوگوں کو کیا ہوا ؟ تو اس عورت نے کہارات اور سردی نے ہمیں یہاں روک لیا ہے۔آپ نے کہا ان بچوں کا کیا معاملہ ہے، یہ کیوں بلک رہے ہیں ؟ اس عورت نے کہا بھوک کی وجہ سے۔حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ اس ہنڈیا میں کیا چیز ہے ؟ اس عورت نے کہا کہ اس کے اندر صرف پانی ہے اور اس کے ذریعہ میں بچوں کو دلاسا دے رہی ہوں یہاں تک کہ وہ سو جائیں۔اللہ ہمارے اور عمر، حضرت عمرؓ کے درمیان فیصلہ کرے گا۔آپؐ نے فرمایا : اے خاتون! اللہ تم پر رحم کرے، عمر کو تمہاری حالت کیسے معلوم ہو سکتی ہے ! اس نے کہا یعنی اس عورت نے کہا کہ وہ ہمارے امور کے نگران ہیں اور ہم سے غافل ہیں۔اسلم جو حضرت عمرؓ کے ساتھ تھے۔وہ کہتے ہیں کہ پھر آپ یعنی حضرت عمر میرے پاس تشریف لائے اور فرمایا ہمارے ساتھ چلو۔پھر ہم نہایت تیزی سے چلتے ہوئے دَارُ الدَّقیق آئے۔حضرت عمرؓ نے اپنے عہد میں دار الدقيق نام سے ایک عمارت بنوائی تھی جس میں آٹا، ستو، کھجور، کشمش اور دیگر ضروریات سفر جن کی ایک مسافر کو ضرورت ہو سکتی ہے میسر ہوتی تھیں۔آپ نے مدینہ اور مکہ کے درمیانی راستوں پر مسافروں کے