خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 366 of 917

خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء) — Page 366

خطبات مسرور جلد 19 366 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 18 جون 2021ء تھے۔نماز تہجد ادا کرتے تھے۔نمازوں کو سنوار کر ادا کرنے والے تھے۔پاکستان میں جب یہ تھے تو بطور سیکر ٹری مال، سیکرٹری وقف جدید ان کو خدمت کی توفیق ملی۔پھر میر پور خاص میں حضرت خلیفۃ المسیح الرابع نے ان کو صدر جماعت مقرر فرمایا اور امارت کے قیام تک یہ وہاں صدر جماعت رہے۔ڈاکٹر عبد المنان صدیقی صاحب کی شہادت کے بعد ان کو امیر مقامی اور امیر ضلع کی خدمت کی بھی توفیق ملی اور آسٹریلیا روانگی تک آپ وہاں امیر ضلع میر پور خاص رہے۔ذیلی تنظیموں میں بھی ان کو کافی خدمت کی توفیق ملی۔اسی طرح آسٹریلیا میں قضا بورڈ کے ممبر تھے۔نائب صدر اول انصار اللہ تھے اور اسی طرح جماعت میں 2016ء سے سیکرٹری رشتہ ناطہ کے طور پر کام کر رہے تھے۔دو بیٹے بھی ان کی زندگی میں فوت ہوئے اور بڑے صبر سے انہوں نے ان کے صدمے کو برداشت کیا۔بہر حال پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ ان کے چار بیٹے شامل ہیں۔اگلا ذکر مکرم مسعود احمد حیات صاحب ابن رشید احمد حیات صاحب کا ہے جن کی اتنی سال کی عمر میں وفات ہوئی۔اِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رجِعُونَ۔ان کے خاندان میں بھی احمدیت ان کے دادا حضرت بابو عمر حیات صاحب ابن چودھری پیر بخش صاحب کے ذریعہ سے آئی تھی۔عمر حیات رضی اللہ تعالیٰ عنہ چودہ سال کی عمر میں 1898ء میں بیعت کر کے سلسلہ احمدیہ میں داخل ہوئے تھے۔پہلے فوج میں ملازمت کی پھر وہ کینیا چلے گئے۔مسعود حیات صاحب 1967ء میں کینیا سے یو کے آگئے اور پھر یہیں مستقل رہائش ہو گئی۔نہایت نفیس طبع، صوم و صلوۃ کے پابند تھے۔خوش اخلاق، ملنسار ، مہمان نواز ، شفیق انسان تھے۔دو مر تبہ ان کو حج کرنے کی توفیق ملی۔حضرت خلیفة المسیح الرابع کے ساتھ مختلف ممالک کے دورہ جات میں ڈرائیونگ اور سیکیورٹی کی خدمت سر انجام دینے کی توفیق ملی۔1983ء میں جب بیت الاحد مسجد والتھم سٹو (Walthamstow) میں خریدی گئی تو اس میں سب سے زیادہ حصہ مرحوم اور ان کی اہلیہ طاہرہ حیات صاحبہ مرحومہ کا تھا۔اللہ تعالیٰ نے آپ پر مالی لحاظ سے خاص فضل فرمایا ہوا تھا اور اس مال کا بہت حصہ وہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ بھی کیا کرتے تھے۔جب ریڈ برج (Redbridge) ایسٹ لندن کی جماعت الگ ہوئی تو اس جماعت کے پاس اپنی کوئی مسجد نہیں تھی۔جب ان کو علم ہوا تو آپ نے اپنے گھر کا ایک حصہ جماعت کے لیے وقف کر دیا۔جہاں تین سال تک جماعت سینٹر قائم رہا اور جماعت کے مختلف کام بھی وہاں ہوتے تھے۔ان کے دو بیٹے ہیں۔پہلی اہلیہ تو فوت ہو گئی تھیں۔اہلیہ ثانی ہیں اور دو بیٹے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان تمام مرحومین سے مغفرت اور رحم کا سلوک فرمائے اور ان کی نسلوں کو بھی احمدیت کے ساتھ جوڑے رکھے اور آگے نسلوں کے حق میں ان بزرگوں کی دعائیں بھی قبول ہوں۔نماز کے بعد جیسا کہ میں نے کہا نماز جنازہ پڑھاؤں گا۔الفضل انٹر نیشنل مورخہ 109 جولائی 2021ء جلد 28 شمارہ 55 صفحہ 05تا10)