خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 364 of 917

خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء) — Page 364

خطبات مسرور جلد 19 364 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 18 جون 2021ء انجام دیں۔1974ء میں ان کے گھر پر حملہ ہو الیکن آپ نے بڑی بہادری سے مقابلہ کیا اور ہجوم کے پتھر اؤ سے زخمی بھی ہوئے لیکن بہر حال سب گھر والے محفوظ رہے۔آپ ہمیشہ ثابت قدمی کی تلقین کیا کرتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ الہی جماعتوں پر ایسے ابتلا آتے ہیں، امتحانات آتے ہیں۔اور ان حالات میں بھی بڑی جرآت کے ساتھ جماعتوں کا دورہ کیا کرتے تھے۔لوگوں کے گھروں میں جایا کرتے تھے اور کئی دفعہ ایسا ہوا کہ اس دورے کے دوران جہاں لوگوں کو ، جماعت کے افراد کو ملنے جاتے تھے لوگوں نے ان کو پکڑا اور مارا لیکن کبھی انہوں نے کوئی شکوہ نہیں کیا۔ان کے چار بیٹے اور چار بیٹیاں ہیں۔آج کل آسٹریلیا میں تھے۔وہیں ان کی وفات ہوئی ہے۔اگلا ذ کر ضمیر احمد ندیم صاحب کا ہے۔چھپن سال کی عمر میں ان کی وفات ہو گئی۔إِنَّا لِلَّهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ ان کو کینسر کی تکلیف تھی۔ان کے پڑدادار حیم بخش صاحب صحابی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ سے 1897ء میں ان کے خاندان میں احمدیت آئی اور جب ان کے پڑدادا نے سنا کہ امام مہدی آگئے ہیں تو اپنے گاؤں شکار پور ماچھیاں، یہ ضلع گورداسپور میں گاؤں تھا، وہاں سے قادیان جلسہ میں شرکت کے لیے گئے اور بیعت کر لی۔پھر اپنے ایک عزیز مہر دین صاحب کو بتایا وہ بھی گئے انہوں نے بھی بیعت کر لی اور پھر ان کی تبلیغ سے تقریباً پورا گاؤں ہی احمد کی ہو گیا۔ضمیر صاحب نے جامعہ پاس کرنے کے بعد اصلاح و ارشاد مقامی کے تحت کچھ عرصہ میدانِ عمل میں کام کیا۔پھر دفتر منصوبہ بندی کمیٹی میں ان کی تقرری ہوئی۔پھر نظارت اصلاح و ارشاد مرکزیہ کے تحت خدمت کی توفیق ملی۔2005ء سے وفات تک یہ معاون ناظر وصیت شعبہ استقبالیہ تھے۔اللہ تعالیٰ نے ان کو ایک بیٹے اور بیٹی سے نوازا۔ان کے بیٹے بھی مربی سلسلہ ہیں۔تعلقات بھی ان کو خوب بنانے آتے تھے۔باسکٹ بال کے کھلاڑی بھی اچھے تھے۔اس وجہ سے تعلقات ہوتے تھے اور پھر جماعت کے لیے اس تعلق کا استعمال بھی کرتے تھے ، فائدہ بھی اٹھاتے تھے۔تہجد گزار تھے۔اللہ تعالیٰ پر تو کل بہت زیادہ تھا۔مشکل وقت میں فوراًدو نفل پڑھنا اور خلیفہ وقت کو خط لکھنا ان کی عادت تھی۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان کی دعاؤں اور نوافل کو اللہ تعالیٰ قبول بھی فرماتا تھا۔اگلا ذ کر مکرم عیسی موا کی تعلیمہ (Issa Mwaki Talima) صاحب کا ہے۔یہ تنزانیہ کے ہیں۔گذشتہ دنوں میں ان کی وفات ہوتی ہے۔انا للهِ وَإِنَّا الیه راجِعُونَ۔یہ عیسائی گھرانے میں پیدا ہوئے تھے۔انیس سال کی عمر میں ارد گرد کے ماحول کی وجہ سے مذہبی گفتگو میں دلچسپی پیدا ہوئی۔اور اسلام قبول کرنے کی سعادت حاصل کی۔چند سال بعد جماعت کے عقائد سے تعارف ہوا اور تحقیق کرنے کے بعد 1992ء میں بیعت کر کے جماعت احمدیہ میں شامل ہو گئے۔بیعت کے بعد مرحوم کے اندر ایک پاکیزہ تبدیلی پیدا ہوئی جو ان کے قریبیوں کو بھی واضح طور پر محسوس ہوتی تھی اور ان کی اس پاک تبدیلی کو دیکھ کر ان کی اہلیہ نے بھی بیعت کر لی۔بیعت کے بعد مرحوم نے اپنے دینی علم کو بڑھانے کے لیے بہت محنت کی۔اپنے کام کے دوران بھی اسلام احمدیت کی تبلیغ کا موقع ہاتھ سے نہ جانے دیتے تھے۔چندہ جات کی ادائیگی میں ہمیشہ پیش پیش رہتے۔متعدد مرتبہ اظہار کیا کہ خدا کی راہ میں دینے سے کاروبار اور مال میں برکت پڑتی ہے۔ان کا کاروبار تھا۔بہت ہی ملنسار خوش اخلاق اور عاجز انسان تھے۔واقفین زندگی، جماعتی