خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء) — Page 363
خطبات مسرور جلد 19 363 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 18 جون 2021ء یہ ذکر ان شاء اللہ آئندہ بھی چلے گا اس وقت میں بعض مرحومین کا بھی ذکر کرنا چاہتا ہوں۔نماز کے بعد نماز جنازہ بھی پڑھاؤں گا۔ان میں سے پہلا ذ کر ہے سہیلہ محبوب صاحبہ المیہ فیض احمد صاحب گجراتی درویش مرحوم جو ناظر بیت المال تھے۔سہیلہ صاحبہ کی توے سال کی عمر میں وفات ہوئی ہے۔اِنَّا لِلهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رجِعُوْنَ۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے وصیہ تھیں۔یہ بہار کے ایک تعلیم یافتہ گھرانے سے تعلق رکھتی تھیں۔ان کے والد احمدی نہیں تھے لیکن ان کی والدہ اپنے والد کی بیعت کے بعد خود مطالعہ کر کے احمدیت میں شامل ہوئیں اور تین چار سال تک اپنے خاوند کی بے رخی سے بہت تکلیف بھی اٹھائی لیکن احمدیت پر ثابت قدم رہیں۔ان کے خاوند احمدی تو نہیں ہوئے لیکن بعد میں مخالفت ترک کر دی اور بیٹیوں کے رشتے بھی احمدی گھرانوں میں ہوئے۔اس طرح سہیلہ صاحبہ کا بھی رشتہ احمدیوں میں ہوا۔1958ء میں مرحومہ کی والدہ اپنی بیٹی سہیلہ محبوب کے ساتھ پہلی بار قادیان آئیں۔سہیلہ محبوب صاحبہ کہتی ہیں ان کو قادیان کی بستی سے بہت انس ہو گیا۔بہت دعائیں کیں کہ کسی طرح وہ قادیان میں ہی آباد ہو جائیں۔بہر حال انہوں نے زندگی وقف کی۔اس وقت ناظر خدمت درویشاں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب تھے۔اس لیے انہوں نے زندگی وقف کے خط کے جواب میں ان کو لکھا کہ مجھے آپ کے وقف کا علم ہواہے اور آپ کا یہ اقدام بڑی قدر کے قابل ہے۔وقف کے ماتحت آپ کا اولین فرض ہے کہ دین کا علم سیکھیں۔اپنے اعمال کو اسلام اور احمدیت کے مطابق بنائیں تاکہ بہترین نمونہ قائم ہو۔چنانچہ 1964ء میں یہ بہر حال وقف ہو ئیں۔1964ء میں مرحومہ کی شادی چو دھری عبد اللہ صاحب درویش سے ہوئی۔ان سے ایک بیٹی پیدا ہوئی لیکن کچھ دیر بعد علیحدگی ہو گئی۔پھر ان کی دوسری شادی چو دھری فیض احمد صاحب گجراتی درویش سے ہوئی۔ان سے ایک لڑکا پیدا ہوا لیکن وہ بچپن میں فوت ہو گیا۔مرحومہ کو ریٹائر منٹ تک تقریباً تیس سال نصرت گرلز ہائی سکول قادیان میں بطور ہیڈ مسٹرس خدمت کا موقع ملا۔دوسر اذ کر راجہ خورشید احمد منیر صاحب مربی سلسلہ کا ہے جو آج کل آسٹریلیا میں تھے وہاں ان کی وفات ہوئی ہے۔اِنَّا لِلَّهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رجِعُونَ۔مرحوم موصی تھے۔ان کو لمبا عرصہ پاکستان اور آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں میں بطور مربی سلسلہ خدمت کی توفیق ملی۔ایک نڈر مربی سلسلہ تھے۔آزاد کشمیر میں خدمت کے دوران آپ کو بہت مخالفت کا بھی سامنا کرنا پڑا۔74ء کے پر آشوب حالات کے دوران بڑی بہادری سے مخالفت کا سامنا کیا۔حضرت خلیفۃ المسیح الثالث نے ایک میٹنگ میں آپ کے بارے میں یہ فرمایا کہ وہاں ہمارا ایک بہادر مربی ہے۔” بہادر مربی“ کے لقب سے نوازا۔راجہ خورشید احمد منیر صاحب نے راولپنڈی میں اپنا ایک گھر بھی خلیفة المسیح الرابع کے زمانے میں جماعت کو بطور عطیہ دیا اور انہوں نے ان کے عطیے کو قبول فرمایا۔راجہ صاحب تقسیم پاک و ہند کے بعد احمد نگر چلے گئے تھے۔جامعہ احمدیہ کا جہاں قیام عمل میں آیا تھا وہاں یہ پڑھتے رہے۔اخراجات پورے کرنے کے لیے انہوں نے کمرے میں ہی ایک چھوٹی سی دکان کھول لی۔پھر 1948ء میں فرقان بٹالین میں بھی شامل ہوئے۔49ء میں مولوی فاضل کا امتحان پاس کیا اور جامعہ کی شاہد کی پہلی کلاس سے امتحان پاس کرنے کے بعد مربی سلسلہ کی حیثیت سے پاکستان کے مختلف مقامات اور کشمیر میں دینی خدمات