خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 365 of 917

خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء) — Page 365

خطبات مسرور جلد 19 365 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 18 جون 2021ء عہدیداران اور کارکنان سے بہت عزت کے ساتھ پیش آتے تھے۔مرحوم موصی تھے۔پسماندگان میں دو بیویاں اور دس بچے شامل ہیں۔امیر و مشنری انچارج تنزانیہ لکھتے ہیں کہ مرحوم کو دار السلام کا ریجنل پریذیڈنٹ مقرر کیا گیا۔ان کی طبیعت میں سادگی نمایاں تھی جس کی وجہ سے لوگوں کے دلوں میں گھر کر لیتے تھے۔خاموش خدمت کرنے والے بزرگ تھے۔پھر یہ نائب امیر تنزانیہ مقرر ہوئے اور اس کام میں بھی بڑے اعلیٰ رنگ میں اپنی خدمات سرانجام دیں۔بہت ہی صائب الرائے بزرگ تھے۔ہمیشہ جماعتی نظام کی عزت و وقار کا خیال رکھا کرتے تھے۔احمدیوں کو آپس میں باہمی رواداری کے ساتھ رہنے اور خلافت احمدیہ سے وابستہ ہو جانے کی ہمیشہ تلقین کرتے رہتے تھے۔جماعتی کارکنان کی ذاتی ضروریات کا بھی خیال رکھا کرتے تھے۔ہر ممکن تعاون کی کو شش کرتے تھے بلکہ کارکنان کو صبح اپنے کام پہ جاتے ہوئے اپنی گاڑی میں لے کے دفتر آتے تھے تاکہ بسوں میں آتے ہوئے ان کا وقت ضائع نہ ہو۔اپنے گھر میں ایک کمرہ نماز سینٹر کے طور پر بنایا ہوا تھا جہاں نمازیں ادا کی جاتی تھیں۔موصیان کو حصہ جائیداد کی ادائیگی کے لیے جب تحریک کی گئی تو انہوں نے سب سے پہلے اپنی دو قیمتی جائیدادوں کی تشخیص کروائی اور حصہ جائیداد کی ادائیگی کر دی۔اگلا ذکر مکرم شیخ مبشر احمد صاحب سپر وائزر نظامت تعمیرات قادیان کا ہے جو شیخ اسرار احمد صاحب کیر نگ اوڈیشہ انڈیا کے بیٹے تھے۔ان کی بھی گذشتہ دنوں میں کو رونا کی وجہ سے وفات ہوئی۔ان کی عمر تینتیس سال تھی۔اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رجِعُوْنَ۔مرحوم پیدائشی احمدی تھے۔پرانے احمدی خاندان میں سے ان کا خاندان ہے۔نهایت با اخلاق نمازی اور خدمت دین کے لیے تیار رہنے والے خادم سلسلہ تھے۔بچپن سے ہی مسجد کے ساتھ خاص تعلق تھا۔آٹھ سالوں سے مرحوم نظامت تعمیرات قادیان میں بہت خوش اسلوبی سے بطور سپر وائزر خدمت بجالا رہے تھے اور بڑی سنجیدگی سے کام کرنے والے تھے۔گہرائی میں جا کر اپنے کام کو دیکھتے تھے۔پسماندگان میں بیوہ کے علاوہ والدین دو بھائی اور ایک بہن شامل ہیں۔اگلاذ کر مکرم سیف علی شاہد صاحب کا ہے جن کی سڈنی میں وفات ہوئی ہے۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَجِعُوْنَ۔اللہ کے فضل سے موصی تھے۔ان کے ننھیال کی طرف سے صحابہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام چودھری محمد علی صاحب تھے اور چودھری گامے خان صاحب تھے جن کے یہ نواسے اور پڑنو اسے تھے۔حیدر علی ظفر صاحب ان کے بھائی ہیں جو مبلغ سلسلہ جرمنی ہیں اور آج کل نائب امیر ہیں۔یہ کہتے ہیں کہ 1961ء میں یہ میٹرک کر کے حیدرآباد میں ملازم ہو گئے۔پھر اس کے بعد ہم دو بھائیوں کی تعلیم کا خرچ بھی اٹھاتے رہتے تھے۔ہمارے اخراجات پورے کرتے تھے اور والدین کی بھی بڑی بے لوث ہو کے انہوں نے خدمت کی۔نہایت ملنسار، نرم گو اور عاجز انسان تھے۔بچوں سے شفقت اور نوجوانوں سے محبت سے پیش آتے تھے۔نظام جماعت اور خلافت سے بے انتہا محبت اور اطاعت کا تعلق تھا۔ہمیشہ اپنے بچوں کو بھی خلافت سے محبت اور اطاعت کا درس دیا۔عہدیداروں کی بہت عزت کرتے تھے۔کسی بھی عہدے دار کے خلاف کبھی کوئی بات سننا گوارا نہیں کرتے تھے۔بہت ہی دعا گو انسان