خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 362 of 917

خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء) — Page 362

خطبات مسرور جلد 19 362 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 18 جون 2021ء حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ جب حضرت عمرؓ کے زمانے میں اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدائن کو فتح کیا۔( مدائن کسری کی تخت گاہ تھا تو آپ نے ان کو مسجد میں چمڑے کی چٹائی بچھانے کا حکم دیا اور اموالِ غنیمت کے بارے میں حکم دیا جو اس چٹائی پر انڈیل دیے گئے۔پھر اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم جمع ہوئے تو سب سے پہلے جس نے آپ سے مالِ غنیمت لینے کی ابتدا کی وہ حضرت حسن بن علی تھے۔انہوں نے عرض کیا اے امیر المومنین ! جو مال اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو عطا فرمایا ہے اس میں سے میرا حق مجھے عطا فرمائیں تو حضرت عمر نے ان کو کہا بڑی خوشی سے اور عزت سے اور ان کو ایک ہزار درہم دینے کا حکم فرمایا۔پھر وہ یعنی حسن چلے گئے اور حسین بن علی آپ کی طرف آگے بڑھے اور عرض کیا اے امیر المومنین ! جو مال اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو عطا فرمایا اس میں سے میرا حق مجھے عطا فرمائیں تو حضرت عمرؓ نے ان کو کہا بڑی خوشی سے اور عزت کے ساتھ اور ان کو ایک ہزار درہم دینے کا حکم فرمایا۔پھر آپ کے بیٹے یعنی حضرت عمرؓ کے بیٹے عبد اللہ بن عمرؓ آپ کی طرف آگے بڑھے اور عرض کیا اے امیر المومنین ! جو مال اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو عطا فرمایا ہے اس میں سے میر احق مجھے عطا فرمائیں۔تو حضرت عمرؓ نے ان کو کہا بڑی خوشی اور عزت کے ساتھ اور انہیں پانچ سو درہم دینے کا حکم فرمایا۔اس پر عبد اللہ بن عمرؓ نے عرض کیا۔اے امیر المومنین! میں ایک طاقتور مرد ہوں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے تلوار چلایا کرتا تھا اور حسن اور حسین اس وقت بچے تھے جو مدینہ کی گلیوں میں پھر ا کرتے تھے۔آپ نے ان دونوں کو ایک ایک ہزار درہم دیے ہیں اور مجھے پانچ سو۔آپ نے فرمایا: ہاں ! جاؤ اور میرے پاس ایسا باپ لے کے آؤ جیسا ان دونوں کا باپ ہے اور ماں جو ان دونوں کی ماں کے جیسی ہو اور نانا جو ان دونوں کے نانا جیسا ہو اور نانی جو ان دونوں کی نانی جیسی ہو اور چچا جو ان دونوں کے چچا جیسا ہو اور ماموں جو ان دونوں کے ماموؤں جیسا ہو اور خالہ جو ان دونوں کی خالہ جیسی ہو اور یقینا تو میرے پاس نہیں لا سکے گا۔(ماخوذ از ازالۃ الخفاء عن خلافة الخلفاء مترجم از شاہ ولی اللہ محدث دہلوی جلد 3 صفحہ 292-293 مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی) (فرہنگ سیرت صفحہ 264 زوار اکیڈیمی کراچی 2004ء) ابو جعفر سے مروی ہے کہ حضرت عمرؓ نے جب ارادہ کیا کہ لوگوں کے لیے وظیفے مقرر کر دیں اور آپ کی رائے سب لوگوں کی رائے سے بہتر تھی تو لوگوں نے عرض کیا کہ آپ اپنی ذات سے شروع کریں۔آپ نے فرمایا نہیں۔چنانچہ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سب سے قریبی رشتہ دار سے شروع کیا۔آپ نے پہلے حضرت عباس کا اور پھر حضرت علی کا حصہ مقرر کیا۔(ماخوذ از ازالۃ الخفاء عن خلافة الخلفاء متر جم از شاہ ولی اللہ محدث دہلوی جلد 3 صفحہ 241 مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی) حضرت عمر بن خطاب حضرت امام حسن اور امام حسین کی عزت کرتے تھے اور ان کو سوار کرتے اور ان دونوں کو عطا کرتے تھے جیسے ان کے والد کو عطا کیا کرتے تھے۔ایک دفعہ یمن سے کچھ تھلے یعنی کپڑوں کے جوڑے آئے تو آپ نے انہیں صحابہ کے بیٹوں میں تقسیم کر دیا اور ان دونوں کو ان میں سے کچھ نہ دیا اور فرمایا: ان میں ان دونوں کے لائق کوئی چیز نہیں۔پھر آپ نے یمن کے نائب کو پیغام بھیجا تو اس نے ان دونوں کے مناسب حال تھلے بنوائے۔(البداية والنهاية جلد 4 جزء 8 باب فضل ذكر في شيء من فضائله صفحه 214-215 دار الكتب العلمية بيروت لبنان 2001ء)