خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء) — Page 361
خطبات مسرور جلد 19 361 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 18 جون 2021ء چکی مدینہ میں لگی تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حکم دیا کہ پہلا پسا ہوا بار یک آٹا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں بطور تحفہ بھیجا جائے۔چنانچہ آپ کے حکم کے مطابق وہ بار یک میدہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں بھیجا گیا اور ان کی خادمہ نے اس آٹے کے باریک باریک پھلکے تیار کیے۔مدینہ کی عورتیں جنہوں نے پہلے کبھی ایسا آنا نہیں دیکھا تھا وہ ہجوم کر کے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں جمع ہو گئیں کہ آؤ ہم دیکھیں وہ آٹا کیسا ہے اور اس کی روٹی کیسی تیار ہوتی ہے ؟ سارا صحن عورتوں سے بھرا ہوا تھا اور سب اس انتظار میں تھے کہ اس آٹے کی روٹی تیار ہو تو وہ اسے دیکھیں۔حضرت مصلح موعود عورتوں کو خطاب کر رہے تھے۔ان کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ تم خیال کرتی ہو گی کہ شاید وہ کوئی عجیب قسم کا آنا ہو گا۔وہ عجیب قسم کا آٹا نہیں تھا بلکہ اس سے بھی ادنی آٹا تھا جو تم روزانہ کھاتی ہو بلکہ اس سے بھی ادنی آٹا تھا۔آج جو آٹا تم میں سے ایک غریب سے غریب عورت کھاتی ہے اس سے بھی وہ ادنی تھا۔مگر مدینہ میں جس قسم کے آئے ہوتے تھے ان سے وہ بہت اعلیٰ تھا۔بہر حال آٹے کے پھلکے تیار ہوئے۔عورتوں نے ان کو دیکھا اور وہ حیران رہ گئیں۔وہ وفورِ شوق میں اپنی انگلیاں ان پچھلکوں کو لگا تیں اور بے ساختہ کہتیں۔اُف کیسا نرم پھلکا ہے۔کیا اس سے اچھا آٹا بھی دنیا میں ہو سکتا ہے ؟ روٹی تو پک گئی لیکن یہاں سے حضرت عائشہؓ کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عشق و محبت کی کہانی شروع ہوتی ہے اور آپ کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں کیا جذبات تھے۔حضرت عائشہ نے پھلکے میں سے ، اس چھوٹی سی روٹی میں سے ایک لقمہ توڑا اور منہ میں ڈالا۔وہ ساری کی ساری عورتیں جو وہاں کھڑی تھیں اس شوق سے حضرت عائشہ کا منہ دیکھنے لگیں کہ اس کے کھانے سے حضرت عائشہ کی عجیب حالت ہو گی۔نرم پھلکا ہے کھا کے وہ مزہ لیں گی۔وہ خوشی کا اظہار کریں گی اور خاص قسم کی لذت اس سے محسوس کریں گی۔مگر حضرت عائشہ کے منہ میں وہ لقمہ گیا تو جس طرح کسی نے گلا بند کر دیا ہو۔وہ لقمہ ان کے منہ میں ہی پڑارہ گیا اور ان کی آنکھوں میں سے ٹپ ٹپ آنسو گرنے لگے۔عورتوں نے کہا۔بی بی آنا تو بڑا ہی اچھا ہے۔روٹی اتنی نرم ہے کہ اس کی کوئی حد ہی نہیں۔آپ کو کیا ہو گیا ہے کہ اسے نگل ہی نہیں سکیں اور رونے لگ گئیں ؟ کیا اس آٹے میں کوئی نقص ہے ؟ حضرت عائشہ نے فرمایا۔آٹے میں نقص نہیں۔میں مانتی ہوں کہ یہ بڑا ہی نرم پھلکا ہے اور ایسی چیز پہلے ہم نے کبھی نہیں دیکھی مگر میری آنکھوں سے اس لیے آنسو نہیں ہے کہ اس آٹے میں کوئی نقص ہے بلکہ مجھے وہ دن یاد آگئے جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی آخری عمر میں سے گزر رہے تھے۔آپ ضعیف ہو گئے تھے اور سخت غذا نہیں کھا سکتے تھے مگر ان دنوں میں بھی ہم پتھروں سے گندم کچل کر اور اس کی روٹیاں پکا پکا کر آپ کو دیتے تھے۔پھر آپ نے فرمایا۔وہ جس کے طفیل ہم کو یہ نعمتیں ملیں وہ تو ان نعمتوں سے محروم چلا گیا لیکن ہم جنہیں اس کے طفیل سے یہ سب عزتیں مل رہی ہیں ہم وہ نعمتیں استعمال کر رہے ہیں۔یہ کہا اور لقمہ تھوک دیا اور فرمایا۔اٹھالے جاؤ یہ پھلکے میرے سامنے سے۔مجھے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ یاد آکر گلے میں پھندا پڑتا ہے اور میں یہ پھل کا نہیں کھا سکتی۔(ماخوذ از آئندہ وہی قومیں عزت پائیں گی جو مالی و جانی قربانیوں میں حصہ لیں گی۔انوار العلوم جلد 21 صفحہ 155-156)