خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء) — Page 360
خطبات مسرور جلد 19 360 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 18 جون 2021ء کسی انعام کا خواہش مند نہیں بلکہ اے میرے رب ! میں صرف اس بات کا طالب ہوں کہ تُو مجھ پر رحم کر کے مجھے معاف فرما دے اور اگر اس ذمہ داری کی ادائیگی میں مجھ سے کوئی قصور ہو گیا ہو تو اس سے در گزر فرما دے۔عمرؓ وہ جلیل القدر انسان تھا جس کے عدل اور انصاف کی مثال دنیا کے پردہ پر بہت کم پائی جاتی ہے مگر اس حکم کے ماتحت کہ: وَإِذَا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ أَنْ تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ۔(النساء : 59) جب وہ مرتا ہے تو ایسی بے چینی اور ایسے اضطراب کی حالت میں مرتا ہے کہ اسے وہ تمام خدمات جو اس نے ملک کی بہتری کے لئے کیں، وہ تمام خدمات جو اس نے لوگوں کی بہتری کے لئے کیں، وہ تمام خدمات جو اس نے اسلام کی ترقی کے لئے کیں بالکل حقیر نظر آتی ہیں۔وہ تمام خدمات جو اس کے ملک کے تمام مسلمانوں کو اچھی نظر آتی تھیں، وہ تمام خدمات جو اس کے ملک کی غیر اقوام کو بھی اچھی نظر آتی تھیں، وہ تمام خدمات جو صرف اس کے ملک کے اپنوں اور غیر وں کو ہی نہیں بلکہ غیر ممالک کے لوگوں کو بھی اچھی نظر آتی تھیں، وہ تمام خدمات جو صرف اس کے زمانہ میں ہی لوگوں کو اچھی نظر آتی تھیں بلکہ آج تیرہ سو سال گزرنے کے بعد بھی وہ لوگ جو اس کے حملہ کرنے سے نہیں چوکتے جب عمر کی خدمات کا ذکر آتا ہے تو کہتے ہیں بے شک عمر اپنے کارناموں میں ایک بے مثال شخص تھا۔وہ تمام خدمات خود عمر کی نگاہ میں بالکل حقیر ہو جاتی ہیں اور وہ تڑپتے ہوئے کہتا ہے: آقا پر اللَّهُمَّ لَا عَلَيَّ وَلَا لِي اے میرے رب ! ایک امانت میرے سپرد کی گئی تھی۔میں نہیں جانتا کہ میں نے اس کے حقوق کو ادا بھی کیا ہے یا نہیں۔اس لئے میں تجھ سے اتنی ہی درخواست کرتا ہوں کہ تُو میرے قصوروں کو معاف فرمادے اور اسلام کا اقتصادی نظام۔انوار العلوم جلد 18 صفحہ 11 تا 13) مجھے سزا سے محفوظ رکھ۔" پھر اپنی ایک تقریر "دنیا کا محسن" میں حضرت مصلح موعود بیان فرماتے ہیں کہ "حضرت عمر وہ انسان تھے جن کے متعلق " ویسے یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں تھا۔" عیسائی مؤرخ بھی لکھتے ہیں کہ انہوں نے ایسی حکومت کی جو دنیا میں اور کسی نے نہیں کی۔وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیتے ہیں مگر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی تعریف کرتے ہیں۔ایسا شخص ہر وقت کی صحبت میں رہنے والا مرتے وقت یہ حسرت رکھتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں اسے جگہ مل جائے۔اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی فعل سے بھی یہ بات ظاہر ہوتی کہ آپ خدا کی رضا کے لئے کام نہیں کرتے تو کیا حضرت عمر جیسا انسان اس درجہ کو پہنچ کر کبھی یہ خواہش کرتا کہ آپ کے قدموں میں جگہ پائے۔" (دنیا کا محسن۔انوار العلوم جلد 10 صفحہ 262) حضرت مصلح موعود یہ ثابت کر رہے ہیں کہ یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی کی وجہ تھی اور آپ کی تربیت تھی جس کی وجہ سے حضرت عمر میں یہ انصاف کے کام تھے اور یہ خوف خدا تھا۔حضرت عمرہ کی اہل بیت سے عقیدت کا کیا اظہار تھا؟ اس بارے میں حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں: حضرت عائشہ دیر تک رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد زندہ رہی تھیں۔حضرت عمرؓ کے زمانہ میں جب ایران فتح ہوا تو وہاں سے آٹا پینے والی ہوائی چکیاں لائی گئیں۔جن میں بار یک آٹا پیسا جانے لگا۔جب سب سے پہلی