خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 359 of 917

خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء) — Page 359

خطبات مسرور جلد 19 359 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 18 جون 2021ء مسلمانوں کی آنکھوں کے سامنے ہر وقت یہ آیت رہتی تھی کہ: تُؤَدُّوا الْآمَنَتِ إِلَى أَهْلِهَا (النساء : 59) یعنی جو لوگ حکومت کے قابل ہوں، جو انتظامی امور کو سنبھالنے کی اہلیت اپنے اندر رکھتے ہوں ان کو یہ امانت سپر د کیا کرو اور پھر جب یہ امانت بعض لوگوں کے سپرد ہو جاتی تھی تو شریعت کا یہ حکم ہر وقت ان کی آنکھوں کے سامنے رہتا تھا کہ دیانت داری اور عدل کے ساتھ حکومت کرو۔اگر تم نے عدل کو نظر انداز کر دیا، اگر تم نے دیانت داری کو ملحوظ نہ رکھا، اگر تم نے اس امانت میں کسی خیانت سے کام لیا تو خدا تم سے حساب لے گا اور وہ تمہیں اس جرم کی سزادے گا۔یہی وہ چیز تھی جس کا اثر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی طبیعت پر اس قدر غالب اور نمایاں تھا کہ اسے دیکھ کر انسان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔حضرت عمرؓ جو اسلام میں خلیفہ ثانی گزرے ہیں انہوں نے اسلام اور مسلمانوں کی ترقی کے لئے اس قدر قربانیوں سے کام لیا ہے کہ وہ یورپین مصنف جو دن رات رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر اعتراضات کرتے رہتے ہیں، جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق اپنی کتابوں میں نہایت ڈھٹائی کے ساتھ یہ لکھتے ہیں کہ نعوذ باللہ ! آپ نے دیانت داری سے کام نہیں لیا وہ بھی ابو بکر اور عمر کے ذکر پر یہ تسلیم کئے بغیر نہیں رہ سکتے کہ جس محنت اور قربانی سے اِن لوگوں نے کام کیا ہے اس قسم کی محنت اور قربانی کی مثال دنیا کے کسی حکمران میں نظر نہیں آتی۔خصوصاً حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے کام کی تو وہ بے حد تعریف کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ وہ شخص تھا جس نے رات اور دن انہماک کے ساتھ اسلام کے قوانین کی اشاعت اور مسلمانوں کی ترقی کے فرض کو سر انجام دیا مگر عمرؓ کا اپنا کیا حال تھا؟ اس کے سامنے باوجود ہزاروں کام کرنے کے باوجود ہزاروں قربانیاں کرنے کے باوجود ہزاروں تکالیف برداشت کرنے کے یہ آیت رہتی تھی کہ : اور یہ کہ: إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَن تُؤَدُّوا الْآمَنَتِ إِلَى أَهْلِهَا۔(النساء : 59) وَإِذَا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ أَنْ تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ۔(النساء : 59) یعنی جب تمہیں خدا کی طرف سے کسی کے کام پر مقرر کیا جاوے اور تمہارے ملک کے لوگ اور تمہارے اپنے بھائی حکومت کے لئے تمہارا انتخاب کریں تو تمہارا فرض ہے کہ تم عدل کے ساتھ کام کرو اور اپنی تمام قوتوں کو بنی نوع انسان کی فلاح و بہبود کے لئے صرف کر دو۔چنانچہ حضرت عمر کا یہ واقعہ کیسا دردناک ہے کہ وفات کے قریب جبکہ آپ کو ظالم سمجھتے ہوئے ایک شخص نے نادانی اور جہالت سے خنجر سے آپ پر وار کیا اور آپ کو اپنی موت کا یقین ہو گیا تو آپ بستر پر نہایت کرب سے تڑپتے تھے اور بار بار کہتے تھے: اللهم لا عَلَى وَلَا لِي اللَّهُمْ لَا عَلَيَّ وَلَا لِي اے خدا ! تُو نے مجھ کو اس حکومت پر قائم کیا تھا اور ایک امانت تُو نے میرے سپرد کی تھی۔میں نہیں جانتا کہ میں نے اس حکومت کا حق ادا کر دیا ہے یا نہیں۔اب میری موت کا وقت قریب ہے اور میں دنیا کو چھوڑ کر تیرے پاس آنے والا ہوں۔اے میرے رب ! میں تجھ سے اپنے اعمال کے بدلہ میں کسی اچھے اجر کا طالب نہیں،