خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 358 of 917

خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء) — Page 358

خطبات مسرور جلد 19 358 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 18 جون 2021ء کلمات سے کی جو اس کے مناسب ہیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھا۔پھر فرمایا کہ مجھے یہ اطلاع پہنچی ہے کہ لوگ میری تیز مزاجی سے ڈر رہے ہیں اور وہ میری تند خوئی سے خوفزدہ ہو رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ عمرؓ ہم پر سخت گیری اس زمانے میں بھی کیا کرتا تھا جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے در میان موجود تھے اور پھر ہم پر سختی کر تا رہا جبکہ ابو بکر ہم پر حاکم تھے نہ کہ وہ، تو اب کیا حال ہو گا جبکہ امور کا پورا اختیار اسی کے ہاتھ میں پہنچ گیا ہے ؟ جس نے یہ کہا اس نے سچ کہا۔بے شک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا اور آپ کا غلام اور آپ کا خادم تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایسے تھے کہ کوئی شخص آپ کی نرمی اور رحمدلی کی صفت تک نہیں پہنچ سکتا تھا۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس سے موسوم کیا اور آپ کو اپنے اسماء میں سے دو نام رؤوف اور رحیم عطا کیے اور میں ایک کھچی ہوئی تلوار تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر چاہیں تو مجھے نیام میں کر لیں یا مجھے چھوڑ دیں تو میں کاٹ ڈالوں۔یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وفات پاگئے اور وہ مجھ سے خوش تھے اور اللہ کا شکر ہے کہ میں اس بنا پر سعادت مند رہا۔پھر لوگوں کے حاکم ابو بکر ہوئے تو وہ ایسے لوگوں میں سے تھے کہ تم میں سے کوئی ان کی رقیق القلبی اور کرم اور نرم مزاجی کا منکر نہیں ہے اور میں ان کا خادم اور ان کا مدد گار تھا۔اپنی سختی کو ان کی نرمی کے ساتھ ملا دیتا تھا اور سونتی ہوئی تلوار بن جاتا تھا اور ان کے ہاتھ میں ہو تا تھا کہ وہ مجھے نیام میں بند کر دیں یا اگر چاہیں تو مجھے چھوڑ دیں اور میں کاٹ ڈالوں۔تو میں ان کے ساتھ اسی طرح رہا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ عزوجل نے ان کو اس حال میں وفات دی کہ وہ مجھ سے خوش تھے۔الحمد للہ میں اس بنا پر سعادت مند رہا۔پھر اے لوگو ! میں تمہارے امور کا والی بن گیا ہوں۔اب سمجھ لو کہ وہ تیزی کمزور کر دی گئی لیکن وہ مسلمانوں پر ظلم و دراز دستی کرنے والوں پر ظاہر ہو گی۔تم پر کمزور ہے لیکن دشمنوں پر تیزی ظاہر ہو گی۔رہے وہ لوگ جو نیک خو اور دین دار اور صاحب فضیلت ہیں میں ان کے ساتھ اس سے بھی زیادہ نرم ثابت ہوں گا جو نرمی وہ ایک دوسرے کے ساتھ کرتے ہیں اور میں کسی ایسے شخص کو نہیں پاؤں گا جو دوسرے پر ظلم و دراز دستی کرتا ہو گا مگر میں اس کے رخسار کو زمین پر ڈال کر اپنا پاؤں اس کے دوسرے رخسار پر رکھوں گا یہاں تک کہ وہ حق کو اچھی طرح سمجھ لے یعنی بہت سختی کروں گا۔اور اے لوگو ! تمہارے مجھ پر بہت سے حقوق ہیں جو میں تم سے ذکر کرتا ہوں تم ان پر میری گرفت کر سکتے ہو۔تمہارا مجھ پر یہ حق ہے کہ میں اس مال میں سے جو تم پر خرچ کرنا ہے کوئی شے تم سے چھپا کر نہ رکھوں اور نہ اس میں سے جو اللہ تعالیٰ غنیمتوں میں سے تمہارے لیے بھیجے بجز اس کے جو اللہ تعالیٰ کے کام کے لیے روکوں۔اور تمہارا مجھ پر یہ حق ہے کہ وہ مال اپنے حق کے موقع پر خرچ ہو اور تمہارا مجھ پر یہ حق ہے کہ میں تمہارے وظائف اور روزینے تم کو دیتار ہوں اور تمہارا مجھ پر یہ حق بھی ہے کہ میں تم کو ہلاکت کے مقامات میں نہ ڈالوں اور جب تم لشکر میں شامل ہو کر گھر سے غائب رہو تو میں تمہارے بال بچوں کا باپ بنار ہوں یہاں تک کہ تم ان کے پاس واپس آؤ۔میں اپنی یہ بات کہہ رہا ہوں اور اللہ سے اپنے اور تمہارے لیے مغفرت چاہتا ہوں۔(ازالۃ الخفاء عن خلافة الخلفاء مترجم از شاہ ولی اللہ محدث دہلوی جلد 3 صفحہ 226 تا 228 مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی) حضرت عمرؓ کے دورِ خلافت کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ