خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 357 of 917

خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء) — Page 357

خطبات مسرور جلد 19 357 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 18 جون 2021ء سے آزمایا ہے اور اس نے میرے دونوں ساتھیوں کے بعد مجھے تم پر باقی رکھا ہے۔اللہ کی قسم !تمہارا جو بھی معاملہ میرے سامنے پیش ہو گا تو میرے علاوہ کوئی اور اس کو نہیں دیکھے گا اور جو معاملہ مجھ سے دُور ہو گا تو اس کے لیے میں قوی اور امین لوگوں کو مقرر کروں گا یعنی لوگ مقرر کیے جائیں گے جو تمہاری نگرانی کریں گے اور معاملات کو دیکھیں گے۔اگر لوگ اچھا برتاؤ کریں گے تو میں بھی ان سے اچھا برتاؤ کروں گا اور اگر انہوں نے برائی کی تو میں انہیں سزا دوں گا۔حسن کہتے ہیں کہ ہمارا خیال ہے کہ سب سے پہلا خطبہ جو حضرت عمر نے ارشاد فرمایا وہ یہ تھا۔آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی پھر فرمایا۔انا بعد مجھے تم لوگوں کے ذریعہ آزمایا گیا ہے اور تم لوگ میرے ذریعہ سے آزمائے گئے ہو اور مجھے اپنے دونوں ساتھیوں کے بعد تم لوگوں پہ پیچھے چھوڑ دیا گیا۔پس جو معاملہ ہمارے سامنے ہو گاہم اسے خود دیکھیں گے اور جو معاملہ ہم سے دور ہو گاتو ہم اس کے لیے قوی اور امین لوگ مقرر کریں گے اور جو اچھائی کرے گا ہم اس کو بھلائی میں بڑھائیں گے اور جو برائی کرے گا ہم اسے سزا دیں گے اور اللہ ہماری اور تمہاری مغفرت فرمائے۔جامع بن شداد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جب حضرت عمر منبر پر چڑھے تو آپ کا سب سے پہلا کلام یہ تھا کہ آپ نے فرمایا: اللهُمَّ إِنِّي شَدِيدُ فَلَيَّنِي وَإِنِّي ضَعِيفٌ فَقَوْنِي وَإِنِّي بَخِيْلُ فَسَخْنِيْ کہ اے اللہ ! میں سخت ہوں پس تو مجھے نرم کر دے اور میں کمزور ہوں پس تو مجھے طاقتور بنادے اور میں بخیل ہوں پس تو مجھے سخی بنادے۔الطبقات الكبرى لابن سعد جلد 3 صفحه 208 ذکر استخلاف عمر دار الكتب العلمية بيروت 1990ء) جامع بن شداد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جب حضرت عمر خلیفہ منتخب ہوئے تو آپ منبر پر چڑھے اور فرمایا کہ میں چند کلمات کہنے والا ہوں تم ان پر آمین کہو۔یہ پہلا کلام تھا جو حضرت عمرؓ نے خلیفہ منتخب ہونے کے بعد کیا۔حُصنین مری بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمرؓ نے فرمایا عربوں کی مثال نکیل میں بندھے ہوئے اونٹ کی طرح ہے جو اپنے قائد کے پیچھے چلتا ہے۔پس اس کے قائد کو چاہیے کہ وہ دیکھے کس طرف ہانک رہا ہے اور جہاں تک میرا تعلق ہے تو رب کعبہ کی قسم ! میں انہیں ضرور سیدھے رستے پر رکھوں گا۔( تاريخ الطبری جلد 2 صفحه -355 سنة 13ه، دار الكتب العلمية بيروت 1987ء) جو پہلے والی روایت ہے اس میں یہ تو ہے کہ آمین کہنا لیکن تفصیل اس کی نہیں بیان ہوئی۔یا یہی نکمیل والی تفصیل ہے۔بہر حال حضرت عمرؓ نے خلیفہ منتخب ہونے کے بعد تیسرے روز ایک تفصیلی خطاب فرمایا۔وہ یوں ہے کہ جب حضرت عمرؓ کو لوگوں کے ان سے خائف ہونے کی اطلاع پہنچی تو لوگوں میں ان کے حکم سے الصلوةُ جامِعَةٌ کہ نماز تیار ہے کی بلند آواز لگائی گئی۔اس پر لوگ حاضر ہو گئے تو آپ منبر پر اس جگہ بیٹھے جہاں حضرت ابو بکر اپنے پاؤں رکھا کرتے تھے۔جب پورا اجتماع ہو گیا یعنی لوگ اکٹھے ہو گئے تو سیدھے کھڑے ہوئے اور اللہ کی حمد و ثنا ان