خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 354 of 917

خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء) — Page 354

خطبات مسرور جلد 19 354 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 18 جون 2021ء کی وصیت مسلمانوں کے نام ہے۔اتنا کہہ کر آپ پر غشی طاری ہو گئی اور حضرت عثمان نے اپنی طرف سے لکھا کہ میں نے تم پر عمر بن خطاب کو خلیفہ مقرر کیا ہے اور میں نے تمہارے متعلق خیر میں کمی نہیں کی۔پھر حضرت ابو بکر کو افاقہ ہوا تو فرمایا مجھے پڑھ کر سناؤ کیا لکھا ہوا ہے۔حضرت عثمان نے سنایا تو حضرت ابو بکر نے اللہ اکبر کہا اور فرمایا میر اخیال ہے کہ تم ڈر گئے کہ اگر میں اس بیہوشی میں وفات پا جاؤں تو کہیں لوگوں میں اختلاف نہ پیدا ہو جائے۔حضرت عثمان نے کہا ہاں یہی بات ہے۔حضرت ابو بکرؓ نے فرمایا اللہ تمہیں اسلام اور مسلمانوں کی طرف سے جزا عطا کرے۔(الكامل في التاريخ لابن اثير جلد 2 صفحه 272-273 دار الكتب العلمية بيروت لبنان 2003ء) حضرت عثمان نے حضرت عمرؓ کے خلیفہ ہونے کا جو فقرہ اپنی طرف سے لکھا تھا اس پر حضرت ابو بکر نے کوئی اعتراض نہیں کیا۔تاریخ طبری میں لکھا ہے کہ محمد بن ابراہیم بن حارث بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابو بکر نے حضرت عثمان کو علیحدگی میں بلایا اور فرمایا لکھو بِسمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِیم۔یہ عہد نامہ ابو بکر بن ابو قحافہ کی طرف سے مسلمانوں کے لیے ہے اور اما بعد راوی کہتے ہیں پھر آپ پر یعنی حضرت ابو بکر پر غشی طاری ہو گئی اور آپ بے ہوش ہو گئے۔اس کے بعد اس طرح جیسا کہ پہلے بیان ہو چکا ہے حضرت ابو بکر ہوش میں آئے۔جب افاقہ ہوا تو وہی باتیں ہوئیں اور حضرت عثمان سے پڑھ کر سنانے کے لیے کہا۔اس کو سن کر پھر جیسا کہ بیان ہوا ہے حضرت ابو بکر نے اللہ اکبر کہا۔پھر حضرت ابو بکر نے فرمایا: اللہ تمہیں اسلام اور اہل اسلام کی طرف سے جزائے خیر دے جو تم نے یہ فقرہ لکھ دیا۔حضرت ابو بکرؓ نے اس تحریر کو اس جگہ بر قرار رکھا، کوئی تبدیلی نہیں کی۔کسی ( تاريخ الطبری جلد 2 صفحه 353ـ سنة 13هـ، ذکر استخلاف عمر بن الخطاب دار الكتب العلمية بيروت 1987ء) ایک روایت میں ہے کہ حضرت ابو بکر نے حضرت عثمان کو بلوایا اور ان سے فرمایا کہ مجھے خلیفہ کے لیے شخص کا مشورہ دو۔اللہ کی قسم ! تم میرے نزدیک مشورے کے اہل ہو۔اس پر انہوں نے کہا حضرت عمرؓ۔حضرت ابو بکرؓ نے فرمایا لکھو۔تو انہوں نے لکھا یہاں تک کہ نام تک پہنچے تو حضرت ابو بکر بے ہوش ہو گئے۔پھر جب حضرت ابو بکر" کو افاقہ ہوا تو آپ نے فرما یا لکھو عمر پھر ایک روایت میں ہے۔حضرت عائشہ بیان فرماتی ہیں کہ حضرت ابو بکر کی وصیت حضرت عثمان تحریر کر رہے تھے۔حضرت ابو بکر پر غشی طاری ہوئی۔حضرت عثمان نے حضرت عمر کا نام لکھ دیا۔جب حضرت ابو بکر کو افاقہ ہوا تو انہوں نے دریافت فرمایا تم نے کیا لکھا ہے ؟ انہوں نے کہا میں نے لکھا ہے عمر۔حضرت ابو بکر نے فرمایا تم نے وہی لکھا جس کا میں نے ارادہ کیا تھا کہ تم سے کہوں گا۔اگر تم اپنا نام بھی لکھ دیتے تو تم بھی اس کے اہل تھے۔(سیرت عمر بن الخطاب از ابن جوزی صفحه 44-45 فی ذكر عهد ابي بكرالي عمر۔المطبعة المصريه الازهر) ایک روایت میں مذکور ہے کہ جب حضرت ابو بکر بیمار ہوئے تو آپ نے حضرت علی اور حضرت عثمان اور مہاجرین و انصار کے چند لوگوں کی طرف پیغام بھیجا اور فرمایا اب وقت آگیا ہے جو تم دیکھ رہے ہو اور تمہیں حکم دینے کے لیے کوئی نہیں کھڑا۔اگر تم چاہو تو اپنے میں سے کسی کو چن لو اور اگر تم لوگ چاہو تو میں تمہارے لیے چن لوں۔انہوں نے عرض کیا بلکہ آپ ہمارے لیے چن لیں۔انہوں نے حضرت عثمان سے فرمایا لکھو یہ وہ عہد ہے جو ابو بکر