خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء) — Page 353
خطبات مسرور جلد 19 353 25 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 18 جون 2021ء خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 18 جون 2021ء بمطابق 18 / احسان 1400 ہجری شمسی بمقام مسجد مبارک، اسلام آباد ٹلفورڈ (سرے)، یوکے تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: آج کل حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ذکر چل رہا ہے۔جب حضرت ابو بکر کی وفات کا وقت قریب آیا تو حضرت ابو بکر نے حضرت عبد الرحمن بن عوف کو بلایا اور فرمایا مجھے عمر کے متعلق بتاؤ۔تو انہوں نے یعنی حضرت عبد الرحمن بن عوف نے کہا کہ اے رسول اللہ کے خلیفہ، اللہ کی قسم !حضرت عمرؓ آپ کی رائے سے بھی افضل ہیں سوائے اس کے کہ ان کی طبیعت میں سختی ہے۔حضرت ابو بکرؓ نے فرمایا سختی اس لیے ہے کہ وہ مجھ میں نرمی دیکھتے ہیں۔اگر امارت ان کے سپر د ہو گئی تو وہ اپنی بہت سی باتیں جو ان میں ہیں ان کو چھوڑ دیں گے کیونکہ میں نے ان کو دیکھا ہے کہ جب میں کسی شخص پر سختی کرتا ہوں تو وہ مجھے اس شخص سے راضی کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور جب میں کسی شخص سے نرمی کرتا ہوں، نرمی کا سلوک کرتا ہوں تو وہ اس وقت مجھے سختی کرنے کا کہتے ہیں۔اس کے بعد حضرت ابو بکر نے حضرت عثمان بن عفان کو بلایا اور ان سے حضرت عمرؓ کے بارے میں دریافت فرمایا۔حضرت عثمان نے کہا کہ ان کا باطن ان کے ظاہر سے بھی بہتر ہے اور ہم میں ان جیسا کوئی نہیں۔اس پر حضرت ابو بکر نے دونوں اصحاب سے فرمایا۔جو کچھ میں نے تم دونوں سے کہا ہے اس کا ذکر کسی اور سے نہ کرنا اور اگر میں عمر کو چھوڑتا ہوں تو عثمان سے آگے نہیں جاتا (یعنی آپ کے نزدیک دونوں ایسے لوگ تھے جو خلافت کا حق ادا کرنے والے تھے ) اور ان کو یہ اختیار ہو گا کہ وہ تمہارے امور کے متعلق کوئی کمی نہ کریں۔اب میری یہ خواہش ہے کہ میں تمہارے امور سے علیحدہ ہو جاؤں اور تمہارے اسلاف میں سے ہو جاؤں۔حضرت ابو بکر کی بیماری کے دنوں میں حضرت طلحہ بن عبید اللہ حضرت ابو بکر کے پاس آئے اور حضرت ابو بکر سے کہا کہ آپ نے حضرت عمرؓ کولوگوں پر خلیفہ بنا دیا ہے حالانکہ آپ دیکھتے ہیں کہ وہ آپ کی موجودگی میں لوگوں سے کس طرح سلوک کرتے ہیں اور اس وقت کیا حال ہو گا جب وہ تنہا ہوں گے ؟ اور آپ اپنے رب سے ملاقات کریں گے اور آپ سے رعیت کے بارے میں پوچھے گا۔حضرت ابو بکڑ نے فرمایا کہ مجھے بٹھاؤ۔تو انہوں نے آپ کو سہارا دے کر بٹھایا اور آپ نے کہا۔کیا تم مجھے اللہ سے ڈراتے ہو ؟ جب میں اپنے رب سے ملوں گا اور وہ مجھ سے پوچھے گا تو میں جواب دوں گا کہ میں نے تیرے بندوں میں سے بہترین کو تیرے بندوں پر خلیفہ بنایا ہے۔پھر حضرت ابو بکر نے حضرت عثمان کو علیحدگی میں بلایا تا کہ وہ حضرت عمرؓ کے متعلق وصیت لکھ دیں۔پھر فرمایا لکھو بسم اللہ الرحمن الرحیم۔یہ ابو بکر بن ابو قحافہ