خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء) — Page 355
355 خطبات مسرور جلد 19 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 18 جون 2021ء بن ابو قحافہ نے اس دنیا سے جاتے ہوئے اپنا آخری عہد کیا اور آخرت میں داخل ہوتے ہوئے اپنا پہلا عہد کیا جہاں فاجر تو بہ کرے گا اور کافر ایمان لائے گا اور جھوٹا تصدیق کرے گا اور وہ عہد یہ ہے کہ وہ گواہی دیتے ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں اور میں خلیفہ مقرر کرتا ہوں۔پھر حضرت ابو بکر پر غشی طاری ہو گئی تو حضرت عثمان نے خود ہی عمر بن خطاب لکھ دیا۔پھر جب حضرت ابو بکر کو افاقہ ہوا تو آپ نے فرمایا کیا تم نے کچھ لکھا ؟ تو انہوں نے کہا جی ہاں میں نے لکھا ہے عمر بن خطاب۔اس پر حضرت ابو بکڑ نے فرمایا اللہ تم پر رحم فرمائے۔اگر تم اپنا نام بھی لکھ دیتے تو تم اس کے اہل تھے۔پس تم لکھو میں نے اپنے بعد عمر بن خطاب کو تمہارا خلیفہ مقرر کیا ہے اور میں تم لوگوں کے لیے ان پر راضی ہوں۔(صحيح تاريخ الطبري جلد 3 صفحه 126 حاشيه ذكر استخلاف عمر بن الخطاب، دارابن کثیر دمشق2007ء) جب وصیت لکھی جاچکی تو حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا۔اسے لوگوں کو پڑھ کر سنایا جائے۔پھر حضرت عثمان نے لوگوں کو جمع کیا اور آپ نے اپنے آزاد کردہ غلام کے ہاتھ خط بھیجا۔اس وقت حضرت عمرؓ بھی اس کے ساتھ تھے۔حضرت عمر لوگوں کو کہتے خاموش ہو جاؤ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلیفہ کی بات سنو کیونکہ انہوں نے تمہارے لیے خیر خواہی میں کمی نہیں کی۔تب لوگ سکون سے بیٹھ گئے اور ان کے سامنے وصیت پڑھی گئی۔انہوں نے اسے سنا اور اطاعت کی۔اس وقت حضرت ابو بکر لوگوں کی طرف مائل ہوئے اور فرمایا کیا تم اس پر راضی ہو جسے میں نے تم پر خلیفہ مقرر کیا ہے کیونکہ میں نے کسی رشتہ دار کو تم پر خلیفہ مقرر نہیں کیا۔میں نے یقینا تم پر عمر کو خلیفہ مقرر کیا ہے۔پس اس کو سنو اور اطاعت کرو اور اللہ کی قسم !یقیناً میں نے اس بارے میں غور و فکر میں کمی نہیں کی۔اس پر لوگوں نے کہا ہم نے سنا اور اطاعت کی۔پھر حضرت ابو بکر نے حضرت عمر کو بلایا اور ان سے فرمایا کہ میں نے تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ پر خلیفہ مقرر کیا ہے اور آپ یعنی حضرت عمر کو اللہ کا تقوی اختیار کرنے کی وصیت کی۔پھر فرمایا اے عمر ا یقینا اللہ کے کچھ حقوق ہیں جو رات کے وقت ہوتے ہیں جنہیں وہ دن کے وقت میں قبول نہیں کرتا اور کچھ حقوق دن کے ہیں جنہیں وہ رات میں قبول نہیں کرتا اور یقیناًوہ اس وقت تک نوافل قبول نہیں کرتا جب تک فرائض پورے نہ کیے جائیں۔اے عمر ! کیا تم نہیں دیکھتے کہ انہی لوگوں کے ترازو بھاری ہیں جن کے حق کی پیروی کرنے اور بھاری ہونے پر قیامت کے دن ترازو بھاری ہوں گے۔جو سچائی کی پیروی کریں گے ان کے تر از وقیامت کے دن بھاری ہوں گے۔پھر آپ نے فرمایا اور ترازو کے لیے یہ بات حق ہے کہ کل کو اس میں وہی بات رکھی جائے گی جو بھاری ہو گی۔اے عمر ! کیا تم نہیں دیکھتے کہ انہی لوگوں کے ترازو ہلکے ہیں جن کے قیامت کے دن ترازو ہلکے ہوں گے۔ان کے باطل کی پیروی اور ان کے ہلکا ہونے کی وجہ سے یعنی وہ سچائی کی پیروی نہیں کر رہے تھے اور نیکیاں نہیں بجالا رہے تھے اس لیے قیامت کے دن پھر ان کے ترازو ہلکے ہوں گے۔اور ترازو کے لیے یہ بات حق ہے کہ جب بھی اس میں باطل رکھا جائے گا تو وہ ہلکا ہی ہو گا۔اے عمر ! کیا تم نہیں دیکھتے کہ نرمی والی آیات شدت والی آیات کے ساتھ نازل ہوئی ہیں اور شدت والی آیات نرمی والی آیات کے ساتھ تاکہ مومن رغبت رکھنے والے اور ڈرنے والے بھی ہوں۔ایک طرف نیکی کی رغبت رکھیں اور دوسرے اللہ تعالیٰ کا خوف بھی ان میں ہو اور کوئی ایسی خواہش نہ رکھیں جس کا اللہ سے تعلق نہ ہو اور نہ ہی وہ کسی