خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 352 of 917

خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء) — Page 352

خطبات مسرور جلد 19 352 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 11 جون 2021 ء اس لیے قرآن جہاں جہاں ہو تلاش کرو اور اس کو لے کر ایک جگہ جمع کر دو۔حضرت زید بن ثابت کہتے ہیں اور اللہ کی قسم ! اگر وہ پہاڑوں میں سے کسی پہاڑ کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانے کا مجھے مکلف کرتے تو مجھ پر یہ کام اتنا بو جھل نہ ہو تا جتنا کہ یہ کام جس کے کرنے کے لیے انہوں نے مجھے حکم دیا یعنی قرآن کریم جمع کرنا۔میں نے کہا آپ دونوں وہ کام کیسے کرتے ہیں جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کیا۔حضرت ابو بکڑ نے فرمایا: اللہ کی قسم !وہ اچھا کام ہے۔میں ان سے بار بار کہتا رہا یہاں تک کہ اللہ نے میر اسینہ اس امر کے لیے کھول دیا جس کے لیے اللہ نے حضرت ابو بکر اور حضرت عمرؓ کا سینہ کھولا تھا۔میں کھڑا ہو گیا اور قرآن مجید کی تلاش کرنے لگا۔اسے چمڑے کے پرچوں اور کندھے کی ہڈیوں اور کھجوروں کی ٹہنیوں اور لوگوں کے سینوں سے اکٹھا کرنے لگا۔یہاں تک کہ میں نے سورہ توبہ کی دو آیتیں حضرت خزیمہ انصاری کے پاس پائیں۔وہ ان کے سوا میں نے کسی کے پاس نہ پائیں اور وہ یہ ہیں: لَقَدْ جَاءَ كُمْ رَسُولٌ مِنْ اَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُمْ حَرِيْضٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَّحِيْمٌ - (التوبة: 128) یعنی یقینا تمہارے پاس تمہی میں سے ایک رسول آیا۔اسے بہت شاق گزرتا ہے جو تم تکلیف اٹھاتے ہو اور وہ تم پر بھلائی چاہتے ہوئے حریص رہتا ہے۔مومنوں کے لیے بے حد مہربان اور بار بار رحم کرنے والا ہے۔حدیث میں صرف اس آیت کا ذکر ہے ویسے دو آیات لکھا ہوا ہے شاید اگلی آیت بھی ہو۔پھر روایت ہے کہ وہ ورق جس پہ قرآن مجید جمع کیا گیا تھا وہ حضرت ابو بکر کے پاس رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو وفات دے دی۔پھر حضرت عمرؓ کے پاس رہے یہاں تک کہ اللہ نے ان کو وفات دے دی۔پھر حضرت حفصہ بنت عمر کے پاس رہے۔پھر بعد میں ان سے بھی جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکا ہے حضرت عثمان نے لے لیے تھے۔(صحيح البخارى كتاب التفسير باب قوله لقد جاء كم رسول من انفسكم۔حدیث (4679) ابھی یہ ذکر چل رہا ہے۔ان شاء اللہ تعالی آئندہ بھی ذکر ہو گا۔الفضل انٹر نیشنل مورخہ 02 جولائی 2021ء جلد 28 شماره 53 صفحہ 05ت10)