خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 351 of 917

خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء) — Page 351

خطبات مسرور جلد 19 351 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 11 جون 2021ء نہیں ہے اور جو شخص لا إِلهَ إِلَّا اللہ کا اقرار کرے گا وہ مجھ سے اپنا مال اور جان بچالے گا سوائے کسی حق کی بنا پر اور اس کا حساب اللہ کے ذمہ ہے تو حضرت ابو بکر نے کہا: اللہ کی قسم !جو بھی نماز اور زکوۃ کے درمیان فرق کرے گا میں اس سے لڑوں گا کیونکہ زکوۃ مال کا حق ہے اور اللہ کی قسم! اور اگر انہوں نے مجھے ایک گھٹنا باندھنے والی رسی دینے سے بھی انکار کیا جو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیتے تھے تو اس کے نہ دینے پر بھی ان سے لڑوں گا۔حضرت عمر بن خطاب کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم ! پھر میں نے دیکھا کہ اللہ نے حضرت ابو بکر کا لڑائی کے لیے سینہ کھول دیا تو میں سمجھ گیا کہ یہ حق ہی ہے۔(صحيح البخاري كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة باب الاقتداء بسنن رسول الله حدیث 7284،7285) حضرت اسامہ بن زید کے لشکر کی روانگی کے وقت حضرت ابو بکر نے حضرت اسامہ کو بعض ہدایات فرمائیں۔حضرت اسامہ سوار تھے اور حضرت ابو بکر ان کے ساتھ پیدل چل رہے تھے۔حضرت اسامہ نے درخواست کی کہ آپ سوار ہوں وگرنہ میں بھی سواری سے اتر جاؤں گا۔حضرت ابو بکڑ نے فرمایا کہ تم نہ اتر و اور اللہ کی قسم ! میں سوار نہیں ہوں گا۔فرمایا: اور مجھے کیا ہوا ہے کہ میں اپنے پاؤں کو کچھ دیر اللہ کے راستے میں غبار آلود نہ کروں کیونکہ غازی کے ہر قدم کے عوض جو وہ اٹھاتا ہے سات سو نیکیاں لکھی جاتی ہیں اور اس کے ساتھ سات سو درجات بلند ہوتے ہیں اور اس کی سات سو خطائیں معاف کی جاتی ہیں۔ہدایت دینے کے بعد حضرت ابو بکر نے حضرت اسامہ سے فرمایا: اگر تم مناسب سمجھو تو عمر کے ذریعہ میری مدد کرو۔یعنی حضرت اسامہ سے عمر کو اپنے پاس روکنے کی اجازت چاہی کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمرؓ کو اس لشکر میں شامل فرمایا تھا۔تو حضرت اسامہ نے آپ کو اس کی اجازت دے دی۔( تاريخ الطبری جلد 2 صفحه 246 ، ذكر أول أمر أبى بكر في خلافته، دارالکتب العلمية بيروت 1987ء) حضرت ابو بکر کے دور میں جنگ یمامہ میں ستر حفاظ قرآن شہید ہوئے تو اس بارے میں حضرت زید بن ثابت انصاری روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابو بکر نے مجھ کو جب یمامہ کے لوگ شہید کیے گئے بلا بھیجا اور اس وقت ان کے پاس حضرت عمررؓ تھے۔حضرت ابو بکرؓ نے فرمایا: عمر میرے پاس آئے ہیں اور انہوں نے کہا ہے کہ یمامہ کی جنگ میں لوگ بہت شہید ہو گئے ہیں اور مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں اور لڑائیوں میں بھی قاری نہ مارے جائیں اور اس طرح قرآن کا بہت ساحصہ ضائع ہو جائے گا۔سوائے اس کے کہ تم قرآن کو ایک جگہ جمع کر دو اور میری رائے یہ ہے کہ آپ قرآن کو ایک جگہ جمع کریں۔حضرت ابو بکر نے فرمایا: میں نے عمرؓ سے کہا کہ میں ایسی بات کیسے کروں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کی ؟ عمر نے کہا اللہ کی قسم ! آپ کا یہ کام اچھا ہے۔عمر مجھے بار بار یہی کہتے رہے یہاں تک کہ اللہ نے اس کے لیے میرا سینہ کھول دیا اور اب میں بھی وہی مناسب سمجھتا ہوں جو عمرؓ نے مناسب سمجھا۔حضرت زید بن ثابت نے کہا اور اس وقت حضرت عمر ان کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اور خاموش بیٹھے تھے ، بات نہیں کرتے تھے۔پھر حضرت ابو بکر نے فرمایا تم جو ان عقلمند آدمی ہو اور ہم تم پر کوئی بدگمانی نہیں کرتے۔تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے وحی لکھا کرتے تھے۔