خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 350 of 917

خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء) — Page 350

خطبات مسرور جلد 19 350 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 11 جون 2021ء گواہ ہوں گے۔پس اس سبب سے میں نے اس روز وہ گفتگو کی تھی جو میں نے کی تھی۔(سیرت ابن هشام صفحه 901دار الكتب العلمية بيروت 2001ء) حضرت ابو بکر کی خلافت کے بارے میں بخاری میں جو ذکر ملتا ہے وہ پہلے بھی بیان ہوا ہے۔دوبارہ میں بیان کرتا ہوں کہ انصار بنی ساعدہ کے گھر حضرت سعد بن عبادہ کے پاس اکٹھے ہوئے اور کہنے لگے کہ ایک امیر ہم میں سے ہو اور ایک امیر تم میں سے۔حضرت ابو بکر اور حضرت عمر بن خطاب اور حضرت ابوعبیدہ بن جراح ان کے پاس گئے۔حضرت عمرؓ بولنے لگے تو حضرت ابو بکر نے انہیں خاموش کیا۔حضرت عمر کہتے تھے کہ اللہ کی قسم ! میں نے جو بولنا چاہا تھا تو اس لیے کہ میں نے ایسی تقریر تیار کی تھی جو مجھے بہت پسند آتی تھی۔مجھے ڈر تھا کہ حضرت ابو بکر اس تک نہ پہنچ سکیں گے یعنی ویسا نہیں بول سکیں گے۔پھر اس کے بعد حضرت ابو بکر نے تقریر کی اور ایسی تقریر کی جو بلاغت میں تمام لوگوں کی تقریروں سے بڑھ کر تھی۔انہوں نے اپنی تقریر کے اثنا میں کہا کہ ہم امیر ہیں اور تم وزیر ہو۔انصار کو کہا تم وزیر ہو۔حباب بن منذر نے یہ سن کر کہا ہر گز نہیں۔اللہ کی قسم ! ہر گز نہیں۔بخدا ہم ایسا نہیں کریں گے۔ایک امیر ہم میں سے ہو گا اور ایک امیر آپ میں سے۔حضرت ابو بکڑ نے کہا نہیں بلکہ امیر ہم ہیں اور تم وزیر ہو کیونکہ یہ قریش لوگ ( بلحاظ نسب) تمام عربوں سے اعلیٰ ہیں اور بلحاظ محسب وہ قدیمی عرب ہیں۔اس لیے عمر یا ابوعبیدہ کی بیعت کرو۔حضرت عمر نے کہا نہیں۔بلکہ حضرت عمرؓ نے حضرت ابو بکر کو کہا کہ ہم تو آپ کی بیعت کریں گے کیونکہ آپ ہمارے سردار ہیں اور ہم میں سے بہتر ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہم میں سے زیادہ پیارے ہیں۔یہ کہہ کر حضرت عمر نے حضرت ابو بکر کا ہاتھ پکڑا اور ان سے بیعت کی اور لوگوں نے بھی ان سے بیعت کی۔(صحيح البخاری کتاب فضائل اصحاب النبي باب قول النبى لو كنت متخذا خليلا حديث 3668) جب حضرت عمرؓ نے حضرت ابو بکر کا ہاتھ پکڑ لیا اور کہا کہ ہماری بیعت لیں اور ساتھ ہی حضرت عمرؓ نے حضرت ابو بکر کی بیعت کر لی اور عرض کی کہ اے ابو بکر ! آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تھا کہ آپ نماز پڑھایا کریں۔پس آپ ہی خلیفة اللہ ہیں۔ہم آپ کی بیعت اس لیے کرتے ہیں کہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہم سے زیادہ محبوب ہیں۔مرتدین کے فتنہ کے بارے میں سیرت ابن ہشام میں لکھا ہے کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو مسلمانوں کے مصائب بڑھ گئے۔ابن اسحاق یہ کہتے ہیں کہ حضرت عائشہ سے مجھے وہ روایت پہنچی۔آپ کہتی ہیں کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو عرب مرتد ہو گئے اور یہودو نصاری اٹھ کھڑے ہوئے اور نفاق ظاہر ہو گیا۔حضرت ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی اور آپ کے بعد حضرت ابو بکر خلیفہ ہوئے اور عربوں میں سے جس نے کفر کرنا تھا کفر کیا تو حضرت عمر بن خطاب نے حضرت ابو بکر سے کہا کہ آپ لوگوں سے کیسے لڑیں گے جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ ان لوگوں سے (سیرت ابن هشام صفحه 903 باب تكفينه و دفنه دار الكتب العلمية بيروت 2001ء) لڑائی کروں یہاں تک کہ وہ لَا اِلهَ اِلَّا اللہ کا اقرار کریں یعنی جو لا اِلهَ اِلَّا اللہ کا اقرار کرنے والے ہیں ان سے لڑنا