خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 349 of 917

خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء) — Page 349

خطبات مسرور جلد 19 349 مَا مُحَمَّد إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ۔خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 11 جون 2021 ء اب اس موقعہ پر جو ایک قیامت ہی کا میدان تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں اور کل صحابہ جمع ہیں۔یہاں تک کہ اسامہ کا لشکر بھی روانہ نہیں ہوا۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے کہنے پر حضرت ابو بکر بآواز بلند کہتے ہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی اور اس پر استدال کرتے ہیں ما مُحمد إِلَّا رسُول سے۔اب اگر صحابہ کے وہم و گمان میں بھی حضرت عیسی علیہ السلام کی زندگی ہوتی تو ضرور بول اٹھتے مگر سب خاموش ہو گئے اور بازاروں میں یہ آیت پڑھتے تھے اور کہتے تھے کہ گویا یہ آیت آج اتری ہے۔معاذ اللہ صحابہ منافق نہ تھے جو وہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے رعب میں آکر خاموش ہو رہے اور حضرت ابو بکر کی تردید نہ کی۔نہیں اصل بات یہی تھی جو حضرت ابو بکر نے بیان کی۔اس لئے سب نے گردن جھکا لی۔یہ ہے اجماع صحابہ کا۔حضرت عمر بھی تو یہی کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پھر آئیں گے۔اگر یہ استدلال کامل نہ ہو تا ( اور کامل تب ہی ہو تا کہ کسی قسم کا استثناءنہ ہوتا کیونکہ اگر حضرت عیسی زندہ آسمان پر چلے گئے تھے اور انہوں نے پھر آنا تھا تو پھر یہ استدلال کیا یہ تو ایک مسخری ہوتی ) تو خود حضرت عمر ہی تردید کرتے۔" (ملفوظات جلد 1 صفحہ 440-441) حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس واقعہ کو مختلف جگہوں پر بار بار بیان کیا ہے۔میں نے جو مختلف واقعات بیان کیے ہیں تو وہ اس لیے ہے کہ وہ لوگ جو حضرت عیسی کو زندہ آسمان پر بیٹھا تصور کرتے ہیں ان کے دماغ سے یہ خیال نکالا جائے کہ کوئی بشر بھی زندہ آسمان پر نہیں گیا اور نہ جاسکتا ہے اور اسی طرح حضرت عیسی علیہ السلام بھی وفات پاچکے ہیں۔حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ حضرت عمرؓ کے زمانہ خلافت میں ایک دفعہ میں ان کے ساتھ جارہا تھا اور اپنے کسی کام کے واسطے جاتے تھے۔ان کے ہاتھ میں کوڑا تھا اور میرے سوا اور کوئی ان کے ساتھ نہ تھا اور وہ اپنے آپ سے باتیں کر رہے تھے اور اپنے پیروں کی پچھلی طرف کو ڑ مارتے جاتے تھے۔پس یکا یک میری طرف مڑ کر کہنے لگے۔اے ابن عباس ! کیا تم جانتے ہو کہ جس روز حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی ہے میں نے وہ بات کیوں کہی تھی یعنی حضور کا وصال نہیں ہوا ہے اور جو ایسا کہے گا اسے میں تلوار سے ماروں گا۔حضرت ابن عباس کہتے ہیں۔میں نے کہا: اے امیر المومنین ! میں نہیں جانتا۔آپؐ ، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ ہی واقف ہوں گے۔یعنی حضرت عمر کو کہا کہ آپ ہی واقف ہوں گے کہ کیوں کہی تھی۔حضرت عمرؓ فرمانے لگے کہ اللہ کی قسم ! اس کا باعث یہ تھا کہ میں اس آیت کو پڑھا کر تا تھا کہ وَكَذلِكَ جَعَلْنَكُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ وَيَكُونَ الرَّسُوْلُ عَلَيْكُمْ شَهِيدًا (البقره:144) اور اسی طرح ہم نے تمہیں وسطی امت بنادیا تا کہ تم لوگوں پر نگران ہو جاؤ اور رسول تم پر نگر ان ہو جائے۔اور اللہ کی قسم ! میں یہ سمجھتا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت میں زندہ رہ کر ان کے اعمال کے