خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 348 of 917

خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء) — Page 348

خطبات مسرور جلد 19 348 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 11 جون 2021ء فوت ہو چکے ہیں تب بجز اس کے کہ رونا شروع کر دیا اور غم سے بھر گئے اور کچھ نہ کہا۔" (تحفه غزنویه روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 579 تا 583) پھر ایک اور موقع پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: "حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا یہ فرمانا کہ جو شخص حضرت سید نا محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت یہ کلمہ منہ پر لائے گا کہ وہ مر گئے ہیں تو میں اس کو اپنی اسی تلوار سے اس کو قتل کر دوں گا۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عمر کو اپنے کسی خیال کی وجہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی پر بہت غلو ہو گیا تھا اور وہ اس کلمہ کو جو آنحضرت (صلی اللہ علیہ وسلم) مر گئے، کلمہ کفر اور ارتداد سمجھتے تھے۔خدا تعالیٰ ہزار ہا نیک اجر حضرت ابو بکر کو بخشے کہ جلد تر ا نہوں نے اس فتنہ کو فرو کر دیا اور نص صریح کو پیش کر کے بتلا دیا کہ گذشتہ تمام نبی مر گئے ہیں۔اور جیسا کہ انہوں نے مسیلمہ کذاب اور اسود عنسی وغیرہ کو قتل کیا۔در حقیقت اس تصریح سے بھی بہت سے فیج اعوج کے کذابوں کو تمام صحابہ کے اجتماع سے قتل کر دیا۔" یعنی جس طرح وہ جھوٹا قتل کیا اسی طرح یہ جو ایک نظریہ تھا اس کا بھی خاتمہ کر دیا۔"گو یا چار کذاب نہیں بلکہ پانچ کذاب مارے۔" پھر آپ فرماتے ہیں کہ " یا الہی ان کی جان پر کروڑ بار حمتیں نازل کر۔آمین۔اگر اس جگہ خَلت کے یہ معنے کئے جائیں کہ بعض نبی زندہ آسمان پر جابیٹھے ہیں تب تو اس صورت میں حضرت عمر حق بجانب ٹھہرتے ہیں اور یہ آیت ان کو مضر نہیں بلکہ ان کی مؤید ٹھہرتی ہے۔لیکن اس آیت کا اگلا فقرہ جو بطور تشریح ہے یعنی آفائِن ماتَ اَوْ قُتِل (ال عمران : 145) جس پر حضرت ابو بکر کی نظر جاپڑی ظاہر کر رہا ہے کہ اس آیت کے یہ معنے لینا کہ تمام نبی گذر گئے گو مر کر گذر گئے یا زندہ ہی گزر گئے یہ دجل اور تحریف اور خدا کی منشاء کے بر خلاف ایک عظیم افترا ہے اور ایسے افتر اعمد ا کرنے والے جو عدالت کے دن سے نہیں ڈرتے اور خدا کی اپنی تشریح کے بر خلاف الٹے معنے کرتے ہیں وہ بلاشبہ ابدی لعنت کے نیچے ہیں۔لیکن حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اس وقت تک اس آیت کا علم نہیں تھا اور دوسرے بعض صحابہ بھی اسی غلط خیال میں مبتلا تھے اور اس سہو و نسیان میں گر فتار تھے جو مقتضائے بشریت ہے اور ان کے دل میں تھا کہ بعض نبی اب تک زندہ ہیں اور پھر دنیا میں آئیں گے۔پھر کیوں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان کی مانند نہ ہوں لیکن حضرت ابو بکر نے تمام آیت پڑھ کر اور آفَائِن ماتَ أَوْ قُتِل سنا کر دلوں میں بٹھا دیا کہ خَلَتْ کے معنے دو قسم میں ہی محصور ہیں۔1۔حتف آنف سے مرنا یعنی طبعی موت "مر نا اور "2۔مارے جانا۔تب مخالفوں نے اپنی غلطی کا اقرار کیا اور تمام صحابہ اِس کلمہ پر متفق ہو گئے کہ گذشتہ نبی سب مر گئے ہیں اور فقرہ آفائِن ماتَ أَوْ قُتِل کا بڑا ہی اثر پڑا اور سب نے اپنے مخالفانہ خیالات سے رجوع کر لیا۔فَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى ذَالِكَ " (تحفہ غزنویہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 581-582 حاشیہ) یہ تحفہ غزنویہ میں آپ نے بیان فرمایا ہے۔پھر ایک اور جگہ بیان فرماتے ہیں کہ " تمام صحابہ کی شہادت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی وفات پر یہ ہوئی ہے کہ سب نبی مر گئے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت کہا کہ ابھی نہیں مرے اور تلوار کھینچ کر کھڑے ہو جاتے ہیں مگر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کھڑے ہو کر یہ خطبہ پڑھتے ہیں کہ :