خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء) — Page 347
خطبات مسرور جلد 19 الْمُنَافِقِينَ 347 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 11 جون 2021ء یعنی حضرت عمر رضی اللہ عنہ لوگوں سے باتیں کرتے تھے اور کہتے تھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فوت نہیں ہوئے اور جب تک منافقوں کو قتل نہ کرلیں فوت نہیں ہوں گے۔" پھر آپ فرماتے ہیں" اور ملل و نحل شہرستانی میں اس قصہ کے متعلق یہ عبارت ہے۔قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ مَنْ قَالَ اَنَّ مُحَمَّدًا مَاتَ فَقَتَلْتُهُ بِسَيْفِي هَذَا وَإِنَّمَا رُفِعَ إِلَى السَّمَاءِ كَمَارُفِعَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَامَ وَقَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ قُحَافَة مَنْ كَانَ يَعْبُدُ مُحَمَّدًا فَإِنَّ مُحَمَّدًا قَدْ مَاتَ وَمَنْ كَانَ يَعْبُدُ الَهَ مُحَمَّدٍ فَإِنَّهُ حَقٌّ لَا يَمُوتُ وَقَرَءَ هَذِهِ الْآيَةَ وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ آفَائِنْ مَّاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَى أَعْقَابِكُمْ (آل عمران:145) فَرَجَعَ الْقَوْمُ إِلَى قَوْلِهِ " اس کا ترجمہ یہ ہے کہ عمر خطاب کہتے تھے کہ جو شخص یہ کہے گا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے تو میں اپنی اسی تلوار سے اس کو قتل کر دوں گا بلکہ وہ آسمان پر اٹھائے گئے ہیں جیسا کہ عیسی بن مریم اٹھائے گئے اور ابو بکر نے کہا کہ جو شخص محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کرتا ہے تو وہ تو ضرور فوت ہو گئے ہیں اور جو شخص محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے خدا کی عبادت کرتا ہے تو وہ زندہ ہے۔نہیں مرے گا یعنی ایک خدا ہی میں یہ صفت ہے کہ وہ ہمیشہ زندہ ہے اور باقی تمام نوع انسان و حیوان پہلے اس سے مر جاتے ہیں کہ ان کی نسبت خلود کا گمان ہو۔" ہمیشہ رہنے کا گمان بھی ہو۔وہ اس سے پہلے ہی مر جاتے ہیں۔" اور پھر حضرت ابو بکڑ نے یہ آیت پڑھی جس کا یہ ترجمہ ہے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) رسول ہیں اور سب رسول دنیا سے گذر گئے۔کیا اگر وہ فوت ہو گئے یا قتل کئے گئے تو تم مرتد ہو جاؤ گے۔تب لوگوں نے اس آیت کو سن کر اپنے خیالات سے رجوع کر لیا۔اب سوچو کہ حضرت ابو بکر کا اگر قرآن سے یہ استدلال نہیں تھا کہ تمام نبی فوت ہو چکے ہیں اور نیز اگر یہ استدلال صریح اور قَطْعِيَّةُ الدَّلالت نہیں تھا تو وہ صحابہ جو بقول آپ کے ایک لاکھ سے بھی زیادہ تھے۔" یعنی وہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام دلیل دے رہے ہیں اور بتانے والے کو بتا رہے ہیں کہ صحابہ جو بقول آپ کے ایک لاکھ سے بھی زیادہ تھے ، " محض ظنی اور شکی امر پر کیونکر قائل ہو گئے اور کیوں یہ حجت پیش نہ کی کہ یا حضرت !یہ آپ کی دلیل ناتمام ہے اور کوئی نص قطعية الدلالت آپ کے ہاتھ میں نہیں۔کیا آپ اب تک اس سے بے خبر ہیں کہ قرآن ہی آیت رافِعُكَ إِلَيَّ میں حضرت مسیح کا بَجِسْمِهِ الْعُنْصُرِی آسمان پر جانابیان فرماتا ہے۔کیا بَلْ رَفَعَهُ اللهُ الله بھی آپ نے نہیں سنا۔پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا آسمان پر جانا آپ کے نزدیک کیوں مُستَبعَذ ہے بلکہ صحابہ نے جو مذاق قرآن سے واقف تھے آیت کو سن کر اور لفظ خَلَتْ کی تشریح فقرہ آفان مَّاتَ أَوْ قُتِلَ میں پاکر فی الفور اپنے پہلے خیال کو چھوڑ دیا۔ہاں ان کے دل آنحضرت کی موت کی وجہ سے سخت غمناک اور چور ہو گئے اور ان کی جان گھٹ گئی اور حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ اس آیت کے سننے کے بعد میری یہ حالت ہو گئی ہے کہ میرے جسم کو میرے پیر اٹھا نہیں سکتے اور میں زمین پر گرا جاتا ہوں۔سبحان اللہ کیسے سعید اور وَفَّافُ عِنْدَ القُرآن تھے کہ جب آیت میں غور کر کے سمجھ آگیا کہ تمام گذشتہ نبی