خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء) — Page 346
خطبات مسرور جلد 19 346 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 11 جون 2021ء مارے میرے پاؤں مجھے سنبھال نہ سکے اور میں زمین پر گر گیا۔جب میں نے حضرت ابو بکر کو یہ آیت پڑھتے سناتو میں نے جان لیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے ہیں۔(صحيح البخاری کتاب المغازى باب مرض النبی و وفاته حديث 4454) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بیان فرماتے ہیں۔عربی کے الفاظ بھی حدیث میں آپ نے quote فرمائے ہیں تو اس کے بجائے میں ترجمہ پڑھ دیتا ہوں۔الفاظ تو جب چھپے گا اس میں آجائیں گے۔آپ فرماتے ہیں کہ : صحیح بخاری میں جو اصح الکتب کہلاتی ہے مندرجہ ذیل عبارت ہے۔" عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ خَرَجَ وَ عُمَرُ يُكَلِّمُ النَّاسَ فَقَالَ اجْلِسْ يَا عُمَرُ فَأَبِي عُمَرُ أَنْ يَجْلِسَ فَأَقْبَلَ النَّاسُ إِلَيْهِ وَتَرَكُوْا عُمَرَ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ أَمَّا بَعْدُ مَنْ مِنْكُمْ يَعْبُدُ مُحَمَّدًا فَإِنَّ مُحَمَّدًا قَدْ مَاتَ وَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ يَعْبُدُ اللهَ فَإِنَّ اللهَ حَنْ لا يَمُوتُ قَالَ اللهُ وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ إِلَى الشَّاكِرِينَ وَقَالَ وَاللَّهِ كَانَ النَّاسَ لَمْ يَعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ أَنْزَلَ هَذِهِ الآيَةَ حَتَّى تَلَاهَا أَبُو بَكْرٍ فَتَلَقَّاهَا مِنْهُ النَّاسُ كُلُّهُمْ فَمَا أَسْمَعُ بَشَرًا مِنَ النَّاسِ إِلَّا يَتْلُوهَا أَنَّ عُمَرًا قَالَ وَاللهِ مَا هُوَ إِلَّا أَنْ سَمِعْتُ آبَا بَكْرٍ تَلَاهَا فَعَقِرْتُ حَتَّى مَا يُقِلُّنِي رِجْلَايَ وَحَتَّى أَهْوَيْتُ إِلَى الْأَرْضِ حَتَّى سَمِعْتُهُ تَلَاهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ مَاتَ۔یعنی۔ابن عباس سے روایت ہے کہ ابو بکر نکالا ( یعنی بروز وفات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم) اور عمر لوگوں سے کچھ باتیں کر رہا تھا ( یعنی کہہ رہا تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فوت نہیں ہوئے بلکہ زندہ ہیں۔) پس ابو بکر نے کہا کہ اے عمر ! بیٹھ جا۔مگر عمرؓ نے بیٹھنے سے انکار کیا۔پس لوگ ابو بکر کی طرف متوجہ ہو گئے اور عمر کو چھوڑ دیا۔پس ابو بکڑ نے کہا کہ بعد حمد وصلوٰۃ واضح ہو کہ جو شخص تم میں سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی پرستش کرتا ہے اس کو معلوم ہو کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) فوت ہو گئے اور جو شخص تم میں سے خدا کی پرستش کرتا ہے تو خدازندہ ہے جو نہیں مرے گا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی موت پر دلیل یہ ہے کہ خدا نے فرمایا ہے کہ محمد مصرف ایک رسول ہے اور اس سے پہلے تمام رسول اس دنیا سے گذر چکے ہیں یعنی مر چکے ہیں اور حضرت ابو بکر نے الشاکرنین تک یہ آیت پڑھ کر سنائی۔" پھر آپ لکھتے ہیں کہ " کہا راوی نے پس بخدا گویا لوگ اس سے بے خبر تھے کہ یہ آیت بھی خدا نے نازل کی ہے اور ابو بکر کے پڑھنے سے ان کو پتہ لگا۔پس اس آیت کو تمام صحابہ نے ابو بکڑ سے سیکھ لیا اور کوئی بھی صحابی یا غیر صحابی باقی نہ رہا جو اِس آیت کو پڑھتانہ تھا اور عمر نے کہا کہ بخدا میں نے یہ آیت ابو بکر سے ہی سنی جب اس نے پڑھی۔پس میں اس کے سننے سے ایسا بے حواس اور زخمی ہو گیا ہوں کہ میرے پیر مجھے اٹھا نہیں سکتے اور میں اس وقت سے زمین پر گر ا جاتا ہوں جب سے کہ میں نے یہ آیت پڑھتے سنا اور یہ کلمہ کہتے سنا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے۔"حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ " اور اس جگہ قسطلانی شرح بخاری کی یہ عبارت ہے۔وَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يُكَلِّمُ النَّاسَ يَقُولُ لَهُمْ مَا مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ يا الله وَلَا يَمُوْتُ حَتَّى يَقْتُلَ