خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 345 of 917

خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء) — Page 345

خطبات مسرور جلد 19 345 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 11 جون 2021ء لگے اللہ کی قسم !رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فوت نہیں ہوئے۔حضرت عائشہ کہتی تھیں۔حضرت عمر کہا کرتے تھے بخدا ! میرے دل میں یہی بات آئی تھی۔اور انہوں نے کہا یعنی حضرت عمرؓ نے کہا کہ اللہ آپ کو ضرور ضرور اٹھائے گا تا بعض آدمیوں کے ہاتھ پاؤں کاٹ دے۔اتنے میں حضرت ابو بکر آگئے۔حضرت عمر یہ ماننے کو تیار نہیں تھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی ہے۔انہوں نے کہا تھا کہ دوبارہ زندہ ہو جائیں گے۔اتنے میں حضرت ابو بکر آگئے۔انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ سے کپڑا ہٹایا۔آپ کو بوسہ دیا۔کہنے لگے میرے ماں باپ آپ پر قربان۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم زندگی میں بھی اور موت کے وقت بھی پاک وصاف ہیں۔اس ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اللہ آپ کو کبھی دو موتیں نہیں چکھائے گا۔یہ کہہ کر حضرت ابو بکر باہر چلے گئے یعنی لوگوں کے پاس گئے اور کہنے لگے۔اے قسم کھانے والے ٹھہر جا۔یعنی حضرت عمرؓ کو مخاطب کیا اور فرمایا قسم کھانے والے ٹھہر جا۔جب حضرت ابو بکر بولنے لگے تو حضرت عمرؓ بیٹھ گئے۔حضرت ابو بکر نے حمد و ثنا بیان کی اور کہا کہ : الا مَنْ كَانَ يَعْبُدُ مُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنَّ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ مَاتَ، وَمَنْ كَانَ يَعْبُدُ اللهَ فَإِنَّ اللَّهَ حَقٌّ لَا يَمُوتُ۔کہ دیکھو جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو پوجتا تھا سن لے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم تو یقینا فوت ہو گئے ہیں اور جو اللہ کو پوجتا تھا تو اسے یادر ہے کہ اللہ زندہ ہے کبھی نہیں مرے گا اور حضرت ابو بکڑ نے یہ آیت پڑھی۔إِنَّكَ مَيْتُ وَإِنَّهُمْ مَّيْتُونَ (الزمر:31) کہ تم بھی مرنے والے ہو اور وہ بھی مرنے والے ہیں۔پھر انہوں نے یہ آیت پڑھی: وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِ الرُّسُلُ أَفَائِن مَّاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَى أَعْقَابِكُمْ وَ مَنْ يَنْقَلِبْ عَلَى عَقِبَيْهِ فَلَن يَضُرَ اللهَ شَيْئًا وَسَيَجْزِى الله الشكرين۔(آل عمران : 145) کہ محمد صرف اللہ کے رسول ہیں۔آپ سے پہلے سب رسول فوت ہو چکے ہیں تو پھر کیا اگر آپ فوت ہو جائیں یا قتل کیے جائیں تو تم اپنی ایڑیوں کے بل پھر جاؤ گے اور جو کوئی اپنی ایڑیوں کے بل پھر جائے تو وہ اللہ کو ہر گز نقصان نہ پہنچا سکے گا اور عنقریب اللہ شکر کرنے والوں کو بدلہ دے گا۔سلیمان کہتے تھے یہ سن کر لوگ اتنے روئے کہ ہچکیاں بندھ گئیں۔(صحیح البخاری کتاب فضائل اصحاب النبی باب قول النبى لو كنت متخذا خليلا حديث 3667 ،3668) (فرہنگ سیرت صفحہ 157 زوار اکیڈمی پہلی کیشنزار دو بازار کراچی 2003ء) حضرت ابن عباس کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم ! ایسا معلوم ہوا کہ گویا لوگ اس وقت تک کہ حضرت ابو بکڑ نے وہ آیت پڑھی جانتے ہی نہ تھے کہ اللہ نے یہ آیت بھی نازل کی تھی۔گویا تمام لوگوں نے ان سے یہ آیت سیکھی۔پھر لوگوں میں سے جس آدمی کو بھی میں نے سنا یہی آیت پڑھ رہا تھا۔زہری کہتے تھے سعید بن مسیب نے مجھے بتایا کہ حضرت عمر نے کہا اللہ کی قسم جو نبی کہ میں نے ابو بکر کو یہ آیت پڑھتے سنائیں اس قدر گھبرایا کہ دہشت کے