خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء) — Page 344
خطبات مسرور جلد 19 344 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 11 جون 2021ء لَا تَضِلُّوا بَعْدَهُ کہ کہیں تم بھول نہ جاؤ۔تحریر لکھ دوں۔ضلال کے معنی بھولنا بھی ہوتے ہیں " بھول کر راہ سے بے راہ ہو جانا بھی ہیں۔غَلَبَهُ الْوَجَعُ۔یعنی آپ کو بیماری نے نڈھال کر دیا ہے کہیں تکلیف بڑھ نہ جائے۔" عمر نے جو بات کی تھی یہ اس کے الفاظ ہیں۔شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ " اور آپ کے فوت ہو جانے کا تو ہم بھی حضرت عمر کو نہیں تھا۔عِندَنَا كِتَابُ اللهِ حَسْبُنَا حضرت عمر نے " جب یہ کہا تھا تو یہ اس لئے کہا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: مَا فَرَّطْنَا فِي الكتب مِنْ شَيْءٍ (الانعام: 39)" بہ سورت انعام میں ہے اور پھر : "تبيَانًا لِكُلِّ شَيْءٍ (النحل: 90) یعنی یہ کتاب ہر بات کو واضح کر کے بیان کرتی ہے۔ہم نے اس میں کوئی کمی نہیں چھوڑی۔" پھر لکھتے ہیں کہ "لَا يَنْبَغِي عِنْدِي التَّنَازُعُ یعنی بعض لوگ جن کے جذبات حضرت عمرؓ کی طرح رقیق تھے انہوں نے کہا کہ ایسے وقت میں تکلیف نہیں دینی چاہئے اور بعض نے کہا کہ حکم کی تعمیل کرنی چاہئے " آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو فرمایا تو لے آؤ قلم دوات۔"مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو چلے جانے کا حکم دیا جب آپس میں بحث شروع ہو گئی " اور فرمایا کہ میرے پاس شور نہ کرو۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو کتاب اللہ کی عزت کا اس حالت بیقراری میں بھی اس کو قدر پاس تھا کہ حضرت عمر کی بات سننے کے بعد کاغذ، قلم، دوات منگوانے کا ارادہ نہیں فرمایا جیسا کہ بخاری کی دوسری روایتوں سے معلوم ہو گا کہ آپ اس واقعہ کے بعد بھی چند روز زندہ رہے اور اس دن کچھ اور وصیتیں بھی کی ہیں مگر اس خیال کا اعادہ نہیں فرمایا " یعنی اس بات کو دوبارہ نہیں فرمایا " ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جن احکام کے لکھوانے کی ضرورت سمجھی تھی وہ کتاب اللہ میں موجود تھے۔گویا کہ قرآن مجید سے چمٹے رہنے کی تاکید فرمانا چاہتے تھے اور آپ نے حضرت عمرؓ کی تائید کی اور خاموش ہو رہے۔یہ وہ ادب ہے جس کی پر وا نام نہاد علماء کو نہیں ہوتی۔" آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا قرآن کریم کا یہ ادب تھا جس کی پر وا نام نہاد علماء کو نہیں ہوتی۔شاہ صاحب آگے لکھتے ہیں۔" ایک رائے کاجو اظہار کر بیٹھیں تو پھر وہ اسے وحی الہی کی طرح سمجھتے ہیں۔" پھر لکھتے ہیں کہ " ہمیں اس پاکیزہ نمونہ کو کبھی بھولنا نہیں چاہئے "جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا پاکیزہ نمونہ تھا۔"کتاب اللہ کے سامنے سب دوسری باتیں کالعدم ہیں۔" (صحیح البخاری کتاب العلم باب کتاب العلم حدیث 114 مترجم از سید زین العابدین ولی اللہ شاہ جلد 1 صفحہ 190 شائع کر دہ نظارت اشاعت ربوہ) عروہ بن زبیر نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہؓ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے اور حضرت ابو بکر اس وقت سُنح میں تھے۔سُنح بھی مدینہ سے دو میل کے فاصلہ پر ایک ہے۔اسماعیل نے کہا یعنی مضافات میں تھے۔جب وفات کی خبر سنی تو حضرت عمر کھڑے ہوئے۔حضرت ابو بکر تو باہر مضافات میں گئے ہوئے تھے لیکن جب وفات کی خبر ہوئی تو یہ خبر سن کر حضرت عمر کھڑے ہوئے اور کہنے