خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء) — Page 343
خطبات مسرور جلد 19 343 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 11 جون 2021ء رساں ہو سکتا ہے ؟ ہر گز نہیں ہر گز نہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: لَن تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مَا تُحِبُّونَ (آل عمران: 93) جب تک تم اپنی عزیز ترین اشیاء اللہ جل شانہ کی راہ میں خرچ نہ کرو تب تک تم نیکی کو نہیں پاسکتے۔" (ملفوظات جلد 6 صفحہ 40 حاشیہ) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا جب وصال ہوا، آپ کی وفات ہوئی تو اس وقت حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا کیارڈ عمل تھا؟ حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا وقت قریب آیا اور گھر میں کچھ مر دکتھے جن میں حضرت عمر بن خطاب بھی تھے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔آؤ میں تمہیں ایک تحریر لکھ دوں جس کے بعد تم گمراہ نہیں ہو گے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کے آخری دنوں کی بات ہے۔اس پر حضرت عمر نے لوگوں سے کہا جو ارد گرد بیٹھے ہوئے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سخت بیمار ہیں اور تمہارے پاس قرآن بھی ہے۔تمہارے لیے اللہ کی کتاب کافی ہے۔گھر میں موجود لوگوں نے اختلاف کیا اور تکرار کی۔بحث شروع ہو گئی۔اس پر ان میں سے بعض کہتے تھے کہ کاغذ قلم قریب لے آؤ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں ایسی تحریر لکھ دیں جس کے بعد تم گمراہ نہیں ہو گے اور ان میں سے بعض وہ بات کہہ رہے تھے جو حضرت عمر نے کہی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف نہ دو۔پھر جب انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بہت باتیں کہیں یعنی بحث شروع ہو گئی اور اختلاف کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ چلے جاؤ یہاں سے۔(صحیح مسلم کتاب الوصیت باب الوصية لمن ليس له شيء يوصى فيه حديث 4234) یہ مسلم کی روایت ہے۔اس کی کچھ تفصیل بخاری میں بھی ہے۔وہاں عبید اللہ بن عبد اللہ سے مروی ہے۔انہوں نے حضرت ابن عباس سے روایت کی ہے۔وہ کہتے تھے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر آپ کی بیماری نے سخت حملہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے پاس کوئی لکھنے کا سامان لاؤ تا میں تمہیں ایک ایسی تحریر لکھ دوں کہ جس کے بعد تم بھولو نہیں۔حضرت عمرؓ نے ارد گر دلوگوں کو کہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر اس وقت بیماری نے غلبہ کیا ہے اور ہمارے پاس اللہ کی کتاب ہے یعنی قرآن کریم ہے جو ہمارے لیے کافی ہے۔اس لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف دینے کی ضرورت نہیں۔اس پر انہوں نے آپس میں اختلاف کیا اور شور بہت ہو گیا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اٹھو میرے پاس سے چلے جاؤ۔میرے پاس جھگڑنا نہیں چاہیے۔اس پر حضرت ابن عباس باہر چلے گئے۔وہ کہا کرتے تھے کہ بڑا نقصان سارے کا سارا یہی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لکھنے سے روک دیا۔(صحيح البخارى كتاب العلم باب کتاب العلم حدیث 114) اس کی تشریح میں حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب نے جو لکھا ہے۔اس کا کچھ حصہ بیان کرتا ہوں کہ "لَا تَضِلُّوا بَعْدَهُ " یہ الفاظ جو حدیث میں ہیں۔یہ امر واضح کر دیا ہے کہ آخری وقت میں بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کی فکر رہی۔