خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء) — Page 342
خطبات مسرور جلد 19 342 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 11 جون 2021ء جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے چندے کی ایک خاص تحریک ہوئی تو اس کے متعلق حضرت عمرؓ اپنا واقعہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ہم صدقہ کریں۔اس وقت میرے پاس مال تھا۔میں نے کہا اگر میں کسی دن حضرت ابو بکر سے سبقت لے جاسکا تو آج لے جاؤں گا تو میں اپنا نصف مال لایا۔پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے اہل کے لیے کیا باقی چھوڑ آئے ہو ؟ میں نے کہا جتنا لے کے آیا ہوں اتنا ہی چھوڑ کے آیا ہوں۔اور حضرت ابو بکر سب کچھ جو اُن کے پاس تھالے آئے۔میں تو نصف لے آیا اور حضرت ابو بکر جو کچھ تھا لے آئے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے بھی پوچھا۔اپنے اہل کے لیے کیا چھوڑ آئے ہو ؟ تو انہوں نے کہا میں ان کے لیے اللہ اور اس کا رسول چھوڑ آیا ہوں۔حضرت عمر کہتے ہیں میں نے سوچا کہ میں آپ سے کسی چیز میں کبھی سبقت نہیں لے جاسکوں گا۔(سنن ابو داؤد كتاب الزكاة باب الرخصة في ذلك حديث 1678) اس واقعہ کو حضرت مصلح موعودؓ بیان فرماتے ہیں کہ " ایک جہاد کے موقع کے متعلق حضرت عمر رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں۔مجھے خیال آیا حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ ہمیشہ مجھ سے بڑھ جاتے ہیں۔آج میں ان سے بڑھوں گا۔یہ خیال کر کے میں گھر گیا اور اپنے مال میں سے آدھا مال نکال کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کرنے کیلئے لے آیا۔وہ زمانہ اسلام کے لئے انتہائی مصیبت کا دور تھا لیکن حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ اپنا سارامال لے آئے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کر دیا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا۔ابو بکر اگھر میں کیا چھوڑ آئے ہو ؟ انہوں نے عرض کیا۔اللہ اور اس کا رسول۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔یہ سن کر مجھے سخت شرمندگی ہوئی اور میں نے سمجھا کہ آج میں نے سارا زور لگا کر ابو بکر سے بڑھنا چاہا تھا مگر آج بھی مجھ سے ابو بکر بڑھ گئے۔" (فضائل القرآن (3) ، انوار العلوم جلد 11 صفحہ 577) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ ایک وہ زمانہ تھا کہ الہی دین پر لوگ اپنی جانوں کو بھیڑ بکری کی طرح نثار کرتے تھے مالوں کا تو کیا ذکر۔حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک سے زیادہ دفعہ اپنا گل گھر بار شار کیا۔" حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ کا واقعہ نہیں ہے ایک سے زیادہ دفعہ " حتی کہ سوئی تک کو بھی اپنے گھر میں نہ رکھا اور ایسا ہی حضرت عمرؓ نے اپنی بساط و انشراح کے موافق اور عثمان نے اپنی طاقت و حیثیت کے موافق على هذا الْقِيَاسِ عَلَى قَدْرِ مَراتِب تمام صحابہ اپنی جانوں اور مالوں سمیت اس دین الہی پر قربان کرنے کے لئے تیار ہو گئے۔" پھر آگے اس وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام جماعت کے بارے میں بات فرماتے ہیں کہ " ایک وہ ہیں کہ بیعت تو کر جاتے ہیں اور اقرار بھی کر جاتے ہیں کہ ہم دنیا پر دین کو مقدم کریں گے مگر مدد و امداد کے موقعہ پر اپنی جیبوں کو دبا کر پکڑ رکھتے ہیں۔بھلا ایسی محبت دنیا سے کوئی دینی مقصد پاسکتا ہے؟ اور کیا ایسے لوگوں کا وجود کچھ بھی نفع