خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء) — Page 341
خطبات مسرور جلد 19 341 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 11 جون 2021ء کے تم سے در گذر کر دیا ہے۔ایک اور واقعہ ہے جس کا حضرت عمرؓ سے براہ راست تو تعلق نہیں ہے لیکن ضمنا حضرت عمر کا ذکر آتا ہے (بخاری کتاب المغازی باب غزوه الفتح حديث 4274) شخص اس لیے بیان کرتا ہوں۔حضرت ابو قتادہ کہتے ہیں کہ جب حنین کا واقعہ ہوا تو میں نے مسلمانوں میں سے ایک کو دیکھا کہ وہ ایک مشرک شخص سے لڑ رہا ہے اور ایک اور مشرک ہے جو دھوکا دے کر چپکے سے اس کے پیچھے سے اس پر حملہ کرنا چاہتا ہے کہ اس کو مار ڈالے۔یہ دیکھ کر میں اس شخص کی طرف جلدی سے لپکا جو ایک مسلمان پر اس طرح دھو کے سے جھپٹنا چاہتا تھا۔اس نے مجھے مارنے کے لیے اپنا ہاتھ اٹھایا اور میں نے اس کے ہاتھ پر وار کر کے اس کو کاٹ ڈالا۔اس کے بعد اس نے مجھے پکڑ لیا اور اس زور سے مجھے بھینچا کہ میں بے بس ہو گیا۔پھر اس نے مجھے چھوڑ دیا وہ ڈھیلا پڑ گیا اور میں نے اس کو دھکا دیا اور اس کو مار ڈالا۔ادھر یہ حال ہوا کہ مسلمان شکست کھا کر بھاگ گئے۔میں بھی ان کے ساتھ بھاگ گیا۔پھر میں کیا دیکھتا ہوں کہ حضرت عمر بن خطاب لوگوں کے ساتھ ہیں۔میں نے ان سے کہالو گوں کو کیا ہوا کہ بھاگ کھڑے ہوئے ؟ انہوں نے ، حضرت عمرؓ نے کہا کہ اللہ کا منشا۔پھر لوگ لوٹ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آگئے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی مقتول کے متعلق یہ ثبوت پیش کر دے کہ اس نے اس کو قتل کیا ہے تو اس مقتول کا سامان اس کے قاتل کا ہو گا۔میں اٹھا کہ اپنے مقتول کے متعلق کوئی شہادت ڈھونڈوں مگر کسی کو نہ دیکھا جو میری شہادت دیتا اور میں بیٹھ گیا۔پھر مجھے خیال آیا اور میں نے اس مقتول کا واقعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا۔آپ کے ساتھ بیٹھے ہوئے لوگوں میں سے ایک شخص نے کہا اس مقتول کے ہتھیار جس کا یہ ذکر کرتے ہیں میرے پاس ہیں۔آپ ان ہتھیاروں کی بجائے ان کو کچھ دے دلا کر راضی کر دیں۔حضرت ابو بکر نے کہا ایسا ہر گز نہیں ہو سکتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم قریش کے ایک معمولی سے شخص کو تو سامان دلا دیں اور اللہ کے شیر وں میں سے ایک شیر کو چھوڑ دیں جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے لڑ رہا ہو۔حضرت ابو قتادہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور آپ نے مجھے وہ سامان دلا دیا۔میں نے اس سے کھجوروں کا ایک چھوٹا سا باغ خرید لیا اور یہ پہلا مال تھا جو میں نے اسلام میں بطور جائید او پیدا کیا۔(صحيح البخارى كتاب المغازى باب قول الله تعالى ويوم حنين حديث 4322) حضرت ابن عمرؓ سے مروی ہے کہ جب ہم حسین سے لوٹے تو حضرت عمرؓ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک نذر کے بارے میں پوچھا جو انہوں نے جاہلیت میں مانی ہوئی تھی یعنی اعتکاف بیٹھنے کی۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ نذر پوری کرنے کا ارشاد فرمایا۔(صحيح البخارى كتاب المغازى باب قول الله تعالى ويوم حنين حديث 4320) کہ چاہے وہ جاہلیت کے زمانے کی تھی اسے پورا کرو۔ساتھ یہ شرط بھی ہے کہ اسلامی تعلیم کے اندر رہتے ہوئے جو بھی شرط ہو سکتی ہے اسے پورا کرناضروری ہے۔غزوہ تبوک میں حضرت عمرؓ کا کیا کردار تھا۔اس کے بارے میں کیا ذ کر ملتا ہے۔غزوہ تبوک کے موقع پر