خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء) — Page 340
خطبات مسرور جلد 19 340 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 11 جون 2021 ء نہیں وہ جلاوطنی کے لیے تیاری کرلے۔اگر کسی نے کوئی عہد لیا ہوا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے رہنے کا کوئی وعدہ کیا تھا تو ٹھیک ہے اس کو میں پورا کروں گا لیکن اگر کوئی نہیں تو پھر تمہیں یہ جگہ چھوڑنی ہو گی۔چنانچہ حضرت عمرؓ نے انہیں جلا وطن کر دیا جن کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی عہد نہ تھا۔حضرت عبد اللہ بن عمر کہتے ہیں کہ میں، حضرت زبیر بن عوام اور حضرت مقداد بن اسود خیبر میں اپنامال دیکھنے گئے اور وہاں پہنچ کر ہم الگ الگ اپنے اموال کے پاس گئے۔رات کے وقت مجھ پر حملہ کیا گیا جبکہ میں اپنے بستر میں سو رہا تھا۔میرے بازوؤں کے جوڑ کہنیوں سے اتر گئے۔جب صبح ہوئی تو میرے دونوں ساتھی چیختے ہوئے میرے پاس آئے اور دونوں نے پوچھا تمہارے ساتھ یہ کس نے کیا ہے ؟ میں نے کہا میں نہیں جانتا۔وہ کہتے ہیں ان دونوں نے میرے باز و درست کیے پھر مجھے لے کر حضرت عمررؓ کے پاس آئے۔حضرت عمر نے کہا یہ یہودیوں کا فعل ہے۔پھر وہ یعنی حضرت عمر لوگوں سے خطاب کرنے کے لیے کھڑے ہوئے اور فرمایا : اے لوگو ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے یہودیوں سے اس شرط پر معاملہ کیا تھا کہ جب ہم چاہیں گے ان کو نکال دیں گے۔اب یہود نے حضرت عبد اللہ بن عمر پر حملہ کیا اور اس کے بازوؤں کے جوڑ نکال دیے جیسا کہ تم تک یہ بات پہنچ چکی ہے۔اس سے پہلے انصاری پر بھی ان لوگوں نے حملہ کیا تھا۔ہم کو اس میں کوئی شک نہیں رہا کہ وہ ان کے ہی ساتھی ہیں۔وہاں ان کے سوا ہمارا کوئی دشمن نہیں ہے۔پس جس کا خیبر میں کوئی مال ہے تو وہ اسے سنبھال لے کیونکہ میں یہود کو نکالنے والا ہوں اور آپ نے انہیں نکال دیا۔عبد اللہ بن مکشف بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت عمرؓ نے یہود کو خیبر سے نکالا تو خود انصار اور مہاجرین کے ساتھ سوار ہوئے اور حضرت جبار بن صخر اور حضرت یزید بن ثابت بھی ان کے ساتھ نکلے۔حضرت جبار اہل مدینہ کے لیے پھلوں کا اندازہ لگانے والے اور ان کے محاسب تھے۔ان دونوں نے خیبر کو اس کے اہل کے درمیان اسی تقسیم کے موافق تقسیم کیا جو پہلے سے تھی۔(سیرت ابن هشام صفحه 710 دار الكتب العلمية بيروت 2001ء) حضرت حاطب کے حوالے سے ایک عورت کو خط دے کر مکہ روانہ کرنے کا یہ واقعہ ملتا ہے کہ انہوں نے جب خط دے کر خفیہ طور پر مکہ کے مشرکوں کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض ارادے کے بارے میں خبر بھیجی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اطلاع ہوئی اور حضرت علی کو آپ نے بھیجا اور وہ عورت راستے میں پکڑی گئی۔اس کے بعد جب حاطب سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا تو انہوں نے اپناعذر پیش کیا اور اپنے ایمان کے بارے میں بتایا کہ ایمان میں میرے کوئی لغزش نہیں ہے بلکہ میرا اکامل ایمان ہے۔حضرت حاطب نے اس کی یقین دہانی کرائی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تسلیم فرمایا لیکن حضرت عمر نے کہا یا رسول اللہ! مجھے اس منافق کی گردن اڑانے دیجیے۔آپ نے فرمایا دیکھو وہ غزوہ بدر میں شریک ہوا ہے اور تمہیں کیا علم کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں جھانک کر دیکھا جو بدر میں شریک ہوئے اور فرمایا جو چاہو کرو میں نے تمہارے گناہوں سے پردہ پوشی کر