خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 337 of 917

خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء) — Page 337

خطبات مسرور جلد 19 337 24 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 11 جون 2021ء خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفتہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 11 / جون 2021ء بمطابق 11/ احسان 1400 ہجری بمقام مسجد مبارک، اسلام آباد، ٹلفوڈ (سرے)، یو کے تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: گذشتہ خطبہ میں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حوالے سے صلح حدیبیہ کا بھی ذکر ہوا تھا۔اس حوالے سے یہ بھی ذکر آتا ہے کہ صلح حدیبیہ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جب بنو بنگر نے جو قریش کے حلیف تھے مسلمانوں کے حلیف قبیلہ بنو خزاعہ پر حملہ کیا اور قریش نے ہتھیاروں اور سواریوں سے بنو بکر کی مدد بھی کی اور صلح حدیبیہ کی شرائط کا پاس نہ کیا تو اس وقت ابو سفیان مدینہ میں آیا اور صلح حدیبیہ کے معاہدہ کی تجدید چاہی۔وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا لیکن آپ نے اس کی کسی بات کا جواب نہیں دیا۔پھر وہ ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس گیا ان سے بات کی کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کریں لیکن انہوں نے بھی کہا کہ میں ایسا نہیں کروں گا۔پھر ابو سفیان حضرت عمر کے پاس آیا اور ان سے بات کی۔انہوں نے جواب دیا کہ کیا میں رسول اللہ کے پاس تیری سفارش کروں ؟ خدا کی قسم ! اگر میرے پاس ایک تنکا بھی ہو تب بھی میں اس کے ساتھ تم لوگوں سے جنگ کروں گا۔(سیرت ابن هشام صفحه 735 دار الكتب العلمية بيروت 2001ء) ( الكامل في التاريخ جلد 2 صفحه 115 ذكر فتح مكه دار الكتب العلمية بيروت 2012ء) فتح مکہ کا ذکر کرتے ہوئے ڈاکٹر علی محمد صلابی نے لکھا ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و مر الظُّهْرَان پہنچے تو ابوسفیان کو اپنے بارے میں فکر ہونے لگی۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چا حضرت عباس نے اسے مشورہ دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے امان طلب کر لو۔حضرت عباس بیان کرتے ہیں کہ میں نے ابوسفیان سے کہا تیر ابر اہو۔دیکھور سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں موجود ہیں۔ابوسفیان کہنے لگا کہ میرے ماں باپ تم پر قربان! اس سے بچنے کی کیا ترکیب ہے ؟ میں نے کہا اللہ کی قسم ! اگر وہ تمہیں گرفتار کر لیں تو یقینا تمہیں قتل کر دیں گے۔میرے پیچھے خچر پر سوار ہو جاؤ میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے جاتا ہوں اور پھر تمہارے لیے آپ سے امان طلب کروں گا۔حضرت عباس کہتے ہیں کہ وہ میرے پیچھے سوار ہو گیا۔میں جب بھی مسلمانوں کی آگوں میں سے کسی آگ کے پاس سے گزرتا تو وہ پوچھتے یہ کون ہے ؟ رات کا وقت تھا، آگیں جلی ہوئی تھیں۔جب وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خچر دیکھتے اور یہ کہ میں اس پر سوار ہوں تو وہ کہتے