خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 338 of 917

خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء) — Page 338

خطبات مسرور جلد 19 338 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 11 جون 2021ء رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا آپ کے خچر پر ہیں۔یہاں تک کہ جب میں عمر بن خطاب کی آگ کے پاس سے گزرا تو انہوں نے کہا یہ کون ہے ؟ اور وہ میرے پاس کھڑے ہوئے۔جب انہوں نے ابوسفیان کو دیکھا تو کہا ابوسفیان، اللہ کا دشمن !ہر قسم کی تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے بغیر کسی عہد و پیمان کے تجھ پر غلبہ عطا فرمایا ہے۔پھر حضرت عباس کھینچتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے یعنی ابوسفیان کو اور حضرت عمرؓ بھی آپ کے پاس داخل ہوئے اور حضرت عمرؓ نے عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے اجازت دیجئے تا کہ میں اس کی گردن مار دوں۔حضرت عباس کہتے ہیں کہ میں نے کہا یار سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !میں نے اس کو پناہ دی ہے۔جب حضرت عمرؓ اپنی بات پر اصرار کرتے رہے تو میں نے کہا اے عمر ! ٹھہر و۔اللہ کی قسم ! اگر اس کا تعلق بنو عدی سے ہو تا تو تم ایسانہ کہتے اور تم جانتے ہو کہ وہ بنو عبد مناف میں سے ہے۔اس پر حضرت عمرؓ کہنے لگے کہ اے عباس ! ٹھہر وہ اللہ کی قسم اجب تم نے اسلام قبول کیا تھا تو مجھے اتنی خوشی ہوئی تھی کہ اگر میر اباپ خطاب بھی ایمان لاتا تو اتنی خوشی نہ ہوتی اور میں جانتا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تمہارا ایمان لانا خطاب کے اسلام لانے سے زیادہ محبوب تھا۔اگر وہ اسلام قبول کرتا۔اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عباس ! ابوسفیان کو اپنے ساتھ لے جاؤ اور صبح لے کر آنا۔( عمر بن خطاب از علی محمد محمد الصلابی صفحه 51 دار المعرفه بيروت 2007ء) بہر حال حضرت عمرؓ کا اور حضرت عباس کا یہ مکالمہ ہو تا رہا اور آخر پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عباس کو یہی کہا کہ اس کو لے جاؤ۔پناہ میں دے دیا ہے تو لے جاؤ۔کچھ نہیں کہنا اس کو۔ابو بکر بن عبد الرحمن سے مروی ہے کہ شعبان سات ہجری میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر بن خطاب کو ایک سریہ میں تیس آدمیوں کے ساتھ تربہ میں قبیلہ ہوازن کی ایک شاخ کی طرف روانہ فرمایا۔تربہ مکہ سے دو دن کی مسافت پر ایک وادی ہے جہاں بنو ہوازن آباد تھے۔جب دو دن کی مسافت وغیرہ کا ذکر ہو تا ہے۔دو دن کے حوالے سے میری مراد یہ ہے کہ جب دنوں کے حوالے سے کہیں بھی حوالہ آئے ، بات ہو۔تو یہ پرانے زمانے کی سواریاں گھوڑے یا اونٹ تھے ان کے حوالے سے ذکر ہوتا ہے۔بریدہ اسلمی سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اہل خیبر کے میدان میں اترے تو آپ نے جھنڈ ا حضرت عمر بن خطاب کو دیا۔(طبقات الكبرى جلد 3 صفحه 206 دار الكتب العلمية بيروت لبنان 2012ء) فرهنگ سیرت صفحه 75 زیر لفظ تر به زوار اکیڈیمی کراچی 2003) کتب سیرت میں لکھا ہے کہ سب سے پہلی مرتبہ غزوہ خیبر میں پرچم کا ذکر ملتا ہے۔اس سے قبل صرف جھنڈے ہوتے تھے۔یہ ذکر ہو رہا تھا کہ بُریدہ اسلمی سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اہل خیبر کے میدان میں اترے تو آپ نے جھنڈ ا حضرت عمر بن خطاب کو دیا۔آگے اس کی کتب سیرت میں سے وضاحت ہے کہ سب سے پہلی مرتبہ غزوہ خیبر میں پرچم کا ذکر ملتا ہے، جھنڈے یعنی بڑے پر چم کا اس سے قبل صرف چھوٹے جھنڈے ہوتے تھے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا پرچم سیاہ رنگ کا تھا جو ام المومنین حضرت عائشہ کی چادر سے بنایا