خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء) — Page 335
خطبات مسرور جلد 19 335 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 04 جون 2021ء خیال رکھنے کی ہمیشہ ہر کارکن کو تلقین کیا کرتے تھے۔اگر کسی کارکن سے زیادتی ہو جاتی تو مہمان سے خود معذرت کرتے۔ان کے بہنوئی نے بھی لکھا ہے کہ یہ کہا کرتے تھے کہ میں نے دنیا میں کبھی کسی سے عداوت نہیں کی۔وکالت مال تحریک جدید کے ایک انسپکٹر لکھتے ہیں کہ انڈیا کے صوبہ جات کیر الہ، تامل ناڈو میں ان کا پچھتر یوم کا لمبا دورہ تھا۔اس دوران میں بیمار ہو گیا تو میری تیمار داری بھی انہوں نے اس طرح کی جس طرح کوئی والدین کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ مرحوم سے مغفرت اور رحم کا سلوک فرمائے۔ان کے بچوں کو ، اہلیہ کو صبر و سکون عطا فرمائے اور ان کی نیکیاں جاری رکھنے کی توفیق دے۔اگلا ذ کر مکرم مقصود احمد صاحب بھٹی مبلغ سلسلہ قادیان کا ہے جو 18 / مئی کو باون سال کی عمر میں وفات پاگئے تھے۔انا للہ وانا اليه راجعون۔یہ مرحوم جماعت احمد یہ چار کوٹ ضلع راجوری صوبہ جموں و کشمیر سے تعلق رکھتے تھے۔ان کا عرصہ خدمت تیس سال پر مشتمل ہے۔ان کو امیر زون لکھنو اور تقریباً ایک سال مبلغ انچارج سرینگر خدمت کی توفیق ملی۔2017ء سے وفات تک فل ٹائم مرکزی قاضی کے طور پر خدمت کی توفیق ملی۔قضا میں بڑی مستعدی کے ساتھ اور اخلاص کے ساتھ اپنے کام سر انجام دے رہے تھے۔در جنوں مقدمات کے فیصلے کیے۔اپنے ذمہ کاموں کی بڑی فکر رہتی تھی۔بلکہ جب بیمار تھے اور گذشتہ دنوں ہسپتال میں تھے، ان کو بھی کو رونا ہو گیا تھا تو ہسپتال میں بھی کاموں کی فکر رہتی تھی۔بڑے ملنسار، خوش مزاج، دلیر، معاملہ فہم اور مستعد واقف زندگی تھے۔مرحوم موصی تھے۔پسماندگان میں والدہ اور تین بھائیوں کے علاوہ اہلیہ اور تین بچیاں شامل ہیں۔اللہ تعالیٰ مرحوم سے مغفرت اور رحم کا سلوک فرمائے۔ان کی بچیوں کی بھی حفاظت فرمائے اور ان کی نیکیاں جاری رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔اگلا جنازہ ہے، ذکر ہے جاوید اقبال صاحب فیصل آباد کا، جو چھیاسٹھ سال کی عمر میں وفات پاگئے۔انا لِلهِ وَ انا الیهِ رجِعُونَ۔ان کے بیٹے طلحہ جاوید لکھتے ہیں کہ ان کے خاندان میں احمدیت ان کے پڑدادا بابا چکی را کے ذریعہ سے آئی۔جن کا نام ان کے پیشہ چکی بنانے اور اس کی مرمت کی وجہ سے مشہور تھا۔گلیوں میں آوازیں لگا کر اپنا کام کیا کرتے تھے اور اس دوران وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اشعار بآواز بلند گنگناتے رہتے تھے تاکہ تبلیغ کے رستے بھی کھلتے رہیں۔اللہ کے فضل سے با قاعدہ نمازوں کے علاوہ تہجد گزار تھے ، تہجد کا التزام کرنے والے تھے۔گھر والوں کو بھی باجماعت نماز پڑھنے کی تلقین کرتے بلکہ گھر میں باجماعت نماز کا اہتمام تھا۔قرآن کریم کی تلاوت با قاعدہ کرتے، ساتھ ترجمہ بھی پڑھتے۔خطبہ سننے کا خصوصی اہتمام تھا۔تمام گھر والوں کو ساتھ بٹھاتے اور ایم ٹی اے پر خطبہ سنتے۔خدمت دین کا جنون کی حد تک شوق تھا۔84ء کے حالات کے بعد جب جماعتی آڈیو کیسٹس کے ذریعہ سے خلیفہ وقت کا خطبہ جماعتوں میں پہنچایا جاتا تھا تو کیسٹ تھیلے میں ڈال کر سائیکل پر گاؤں گاؤں جا کر پہنچایا کرتے تھے اور جب ایم ٹی اے کا آغاز ہو ا تو اپنے گھر میں ڈش لگوایا اور لوگوں کو گھر بلا کے خطبہ سنوایا کرتے تھے۔ان کے پسماندگان میں والدہ اور اہلیہ امتہ الباسط اور دو بیٹے اور ایک بیٹی شامل ہیں۔اللہ تعالیٰ مغفرت اور رحم کا سلوک فرمائے۔