خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء) — Page 334
خطبات مسرور جلد 19 334 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 04 جون 2021ء ملک محمد یوسف سلیم صاحب شعبہ زود نویسی میں آگئے۔اس شعبہ میں لمبا عرصہ خدمت کی توفیق ملی اور تقاریر وغیرہ کو ضبط تحریر میں لاتے تھے۔جماعتی اخبار الفضل کے لیے رپورٹیں تیار کرتے تھے۔نہایت ذمہ داری سے اور منظم اور اعلیٰ طریق پر کام کرنے والے تھے۔ادبی معیار بھی ان کا نہایت اعلی ہو تا تھا۔اور جیسا کہ میں نے بتایا خلیفة المسیح الثالث اور خلیفة المسیح الرابع کے ساتھ ان کو بیرونی قافلوں میں یورپ میں بھی جانے کا موقع ملا۔بڑی باریک بینی سے اپنا کام کیا کرتے تھے۔ایک ایک لفظ کو غور و فکر کے ساتھ محتاط ہو کر لکھتے تھے اور دعا کر کے لکھتے تھے کہ کہیں اصل مفہوم سے کوئی فرق نہ رہ جائے اور جب 2013ء میں انہوں نے ریٹائر منٹ لی ہے تب بھی شوری کی رپورٹ کی تیاری میں اگر کوئی دقت آرہی ہو تو پرائیویٹ سیکرٹری کے دفتر میں جب بھی آپ کو بلایا جا تا فوراً تشریف لے آتے اور ہمیشہ اس بات کا اظہار کرتے کہ میں اپنے لیے سعادت سمجھتا ہوں۔میرے دماغ میں بھی ہمیشہ ان کے بارے میں یہی تصور ہے کہ ایک پر سکون شخصیت جو اپنے کام میں مگن ہے اور انہوں نے وقف کا بھی حق ادا کیا۔خاموشی سے سارے کام کرنے والے تھے۔کوئی مطالبہ نہیں۔بڑی سادگی سے رہنے والے۔اللہ تعالیٰ مغفرت اور رحم کا سلوک فرمائے۔ان کی اولاد کو بھی ان کی نیکیاں جاری رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔دوسرا ذکر مکرم شعیب احمد صاحب واقف زندگی کا ہے جو بشیر احمد صاحب کالا افغاناں مرحوم درویش قادیان کے بیٹے تھے۔56 سال کی عمر میں ان کی وفات ہوئی ہے۔اِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رجِعُونَ۔1987ء میں سلسلہ کی ملازمت اختیار کر لی۔صدر انجمن احمدیہ کے مختلف ادارہ جات میں بطور کار کن اور افسر اور ناظر خدمت بجالاتے رہے۔انچارج دفتر علیا اور آڈیٹر صدر انجمن احمد یہ اور ناظر بیت المال خرچ، ناظم وقف جدید مال، افسر جلسه سالانه اور صدر خدام الاحمدیہ بھارت کے طور پر انہیں خدمت کی توفیق ملی۔ان کا عرصہ خدمت تینتیس سال سے زائد ہے۔عبادت کی طرف ان کی بھی بڑی توجہ تھی۔نماز تہجد اور نوافل کی ادائیگی میں بڑی باقاعدگی تھی۔خلافت کی اطاعت کا بھی اعلیٰ معیار تھا۔ہمیشہ یہ کہتے تھے جو بھی ہدایت آئے فوری تعمیل کرنی ہے۔قرآن مجید کا گہرا علم تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور خلفائے سلسلہ کی کتب کا بھی مطالعہ تھا۔دینی معلومات بڑی وسیع تھیں۔ہر موضوع پر تقریر کا ملکہ تھا۔انتہائی خوش اخلاق اور ملنسار انسان تھے۔ہر طبقہ کے لوگوں سے پیار اور محبت کرنے والے وجو د تھے۔ضرور تمندوں اور ماتحتوں کا پورا خیال رکھتے تھے۔قادیان میں ہر شخص ان کی بڑی تعریف کر رہا ہے۔بلند حوصلہ اور شکر گزار بھی تھے۔مرحوم موصی تھے۔پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ دو بیٹے شامل ہیں۔یہ جلال الدین صاحب نیر صدر صدر انجمن احمد یہ قادیان کے داماد تھے۔رفیق بیگ صاحب ناظر بیت المال آمد قادیان لکھتے ہیں کہ ان کے ساتھ اٹھارہ سال مجلس خدام الاحمدیہ بھارت اور دفتر جلسہ سالانہ قادیان میں خدمت کا موقع ملا۔آپ اپنے عملی نمونے سے خدمت کرنے والوں کو اپنے ساتھ لے کر چلتے تھے۔جلسہ سالانہ کے دنوں میں بھی رات تین چار بجے تک دفتر میں رہتے اور قیام گاہوں کا جائزہ لیتے۔کہیں کمی بیشی نظر آتی تو فور جا کے اس کی درستگی کرتے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مہمانوں کا کماحقہ