خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 333 of 917

خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء) — Page 333

خطبات مسرور جلد 19 333 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 04 جون 2021ء ملازمت دلوائی۔اس وقت وہاں چیف انجنیئر میر حمید اللہ صاحب جو تھے وہ احمدی تھے۔الفضل وہاں آیا کرتا تھا اور میر حمید اللہ صاحب تبلیغ بھی کرتے تھے۔الفضل پڑھ کر یہ احمدی ہوئے۔بہر حال جب ان کے گھر والوں کو پتہ لگا تو انہوں نے بڑا ڈرایا دھمکایا۔جان سے مارنے کی دھمکیاں دیں کہ احمدیت چھوڑ دو لیکن انہوں نے اپنا گھر بار چھوڑ دیا اور احمدیت کو نہیں چھوڑا۔آخر جب بہت زیادہ خطرہ بڑھ گیا اور گھر بار جو چھوڑا تو وہ اس طرح تھا کہ ان کی والدہ نے انہیں ایک دن رات کو اپنے بیٹوں سے چھپا کر کہا کہ یہاں سے چلے جاؤ اور یہاں کبھی نہ آناور نہ تمہاری جان کو خطرہ ہے۔انہوں نے پنجاب یونیورسٹی لاہور سے عربی میں ماسٹرز کیا اور پھر 1958ء میں جامعہ احمدیہ میں داخلہ لیا۔1963ء میں جامعہ سے فارغ ہوئے۔پھر ملک سیف الرحمن صاحب کے ساتھ جو مفتی سلسلہ تھے ، افتاء کے دفتر میں ان کی تقرری ہوئی۔1967ء میں ان کا تبادلہ زود نویسی کے شعبہ میں ہوا۔جب مولانا محمد یعقوب طاہر صاحب انچارج زود نویسی کی وفات ہوئی تو حضرت خلیفۃ المسیح الثالث نے ان کو ان کی جگہ اپنے پاس زود نویسی کے شعبہ میں رکھ لیا۔1985ء تک یہ شعبہ زود نویسی کے انچارج رہے۔زود نویسی کے دفتر میں آپ کے ذمہ خلیفۃ المسیح کے خطبات، خطابات ، پروگراموں کی رپورٹس، دورہ جات کی رپورٹس وغیرہ تیار کرنے کا کام تھا۔1978ء میں کسر صلیب کا نفرنس جو لندن میں ہوئی تھی اور اس میں حضرت خلیفة المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے شرکت کی تھی اس میں بھی آپ حضور کے ساتھ تھے اور رپورٹ تیار کی تھی۔حضرت خلیفة المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ سوانح فضل عمر کی تیاری میں بھی انہوں نے کافی معاونت کی ہے اور حضرت خلیفۃ المسیح الرابع نے ان کا بڑے احسن رنگ میں ذکر کیا ہوا ہے۔حضرت خلیفۃ المسیح الرابع نے 1983ء میں آسٹر یلیا، نجی اور سنگا پور کا دورہ کیا تو ملک یوسف سلیم صاحب بھی آپ کے ساتھ تھے اور ہجرت کے بعد خطبات کی آڈیو کیسٹس کی کاپیاں تیار کرنے کا کام انہوں نے بہت احسن رنگ میں کیا اور کیونکہ احتیاط کرنی ہوتی تھی تو خود فیصل آباد جا کے کسی گھر میں یہ آڈیو کیسٹ تیار کرتے تھے اور پھر واپس لے کے آتے تھے۔کچھ سال فیلڈ میں یہ مربی سلسلہ بھی رہے۔طاہر فاؤنڈیشن میں خطبات طاہر پر کام کرنے کی ان کو توفیق ملی۔پرائیویٹ سیکرٹری میں شوری کی کارروائیاں لکھنے کی توفیق ملی۔بہر حال ریٹائر منٹ کے بعد ری ایمپلائی ہوتے رہے۔پھر انہوں نے بیماری کی وجہ سے 2013ء میں رخصت لے لی۔ان کی دو شادیاں تھیں۔پہلی شادی سے ان کی ایک بیٹی پیدا ہوئی اس کے بعد ان کی اہلیہ فوت ہو گئیں۔پھر دوسری شادی ہوئی جس سے دو بیٹے اور تین بیٹیاں ہیں۔ان کی بیٹی قدسیہ محمود سردار کہتی ہیں کہ ہمارے ابا نے اللہ تعالیٰ سے تعلق جوڑا اور ہمیں بھی اس کی بہت زیادہ تلقین کی۔نمازوں کی سختی سے پابندی کرواتے تھے۔نماز لیٹ پڑھنے پر ناراض ہوتے۔تہجد میں بہت گریہ وزاری کرتے تھے۔قرآن کریم کا ایک پارہ روزانہ پڑھتے تھے اور بیماری میں بھی یہی تھا کہ پوچھتے رہتے تھے کہ نماز کا وقت ہوا کہ نہیں۔بڑی فکر تھی ان کو نماز کی۔خلافت سے محبت اور اطاعت انہوں نے ہم میں کوٹ کوٹ کر بھری۔خلافت سے بے حد محبت تھی۔کہتے تھے کہ اطاعت خلافت میں ہی ساری برکتیں ہیں۔احمدیت کے لیے بڑی مشکلات برداشت کیں۔رشید طیب صاحب اسسٹنٹ پرائیویٹ سیکرٹری ہیں، کہتے ہیں خلافت ثالثہ کے زمانے میں