خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 19 of 917

خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء) — Page 19

خطبات مسرور جلد 19 19 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 08 جنوری 2021ء کہ میں تمہارے اس قرض کو اپنے پاس رکھنے کے لیے، اپنی ضرورت کے خرچ کے لیے نہیں مانگ رہا بلکہ تمہیں کئی گنا بڑھا کر دینے کے لیے تمہارے سے یہ قرض لے رہا ہوں اور اس کے لیے کہہ رہا ہوں۔اگر تم میرے دین کے لیے ، میری مخلوق کی بہتری کے لیے خرچ کرو گے تو کئی گنا بڑھا کر تمہیں واپس لوٹاؤں گا اور قرضہ حسنہ کا لفظ استعمال کر کے یہ بھی بتا دیا کہ تم اپنی مرضی سے اور خوش دلی سے یہ خرچ کرو گے تو پھر ایسا جو خرچ اللہ تعالیٰ کی راہ میں ہو گا وہ تمہاری طرف سے قرضہ حسنہ ہو گا اور اللہ تعالیٰ بھی اس سے کئی گنا بڑھا کر لوٹائے گا۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی ایک مجلس میں اس حوالے سے بیان کرتے ہوئے ایک جگہ یوں فرمایا کہ : اللہ تعالیٰ جو قرض مانگتا ہے تو اس سے یہ مراد نہیں ہوتی ہے کہ معاذ اللہ للہ تعالیٰ کو حاجت ہے اور وہ م کرنا بھی کفر ہے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جزا کے ساتھ واپس کروں گا۔" یعنی بڑھا کر واپس محتاج ہے۔ایسا و ہم کو کروں گا یہ ایک طریق ہے اللہ تعالیٰ جس سے فضل کرنا چاہتا ہے۔" پھر ایک موقع پر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ ( ملفوظات جلد 3 صفحہ 268) ایک نادان کہتا ہے کہ مَنْ ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللهَ قَرْضًا حَسَنًا۔(البقرہ: 246) (کون شخص ہے جو اللہ کو قرض دے) اس کا مفہوم یہ ہے کہ گویا معاذ اللہ خدا بھوکا ہے۔احمق نہیں سمجھتا۔" آپ فرماتے ہیں کہ احمق لوگ ہیں جو ایسی باتیں کرتے ہیں۔" احمق نہیں سمجھتا کہ اس سے بھو کا ہونا کہاں سے نکلتا ہے ؟'' جب قرضہ حسنہ کی بات اللہ تعالیٰ کرتا ہے کہ مجھے دو تو اس سے کہاں یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ اللہ تعالیٰ بھو کا ہے۔فرمایا کہ ”یہاں قرض کا مفہوم اصل تو یہ ہے کہ ایسی چیزیں جن کے واپس کرنے کا وعدہ ہوتا ہے " قرض تو ہوتا ہی واپس کرنے کے لیے ہے اور اس کے ساتھ وعدہ ہوتا ہے۔فرمایا کہ " ان کے ساتھ افلاس اپنی طرف سے لگا لیتا ہے " یعنی اعتراض کرنے والا افلاس کا لفظ یا غربت کا لفظ یا اللہ تعالیٰ کی ضرورت کا لفظ اپنی طرف سے لگا لیتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے تو یہ نہیں فرمایا کہ میں بھوکا ہوں، افلاس زدہ ہوں۔اس لیے مجھے دو۔اپنی ذات کے لیے میں نے خرچ کرنا ہے۔ہاں اپنے بندوں کے لیے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے بندے جب بھوکے ہوتے ہیں تم دو گے ، ان پر خرچ کرو گے تو اس کا مطلب یہ ہے تم نے مجھ پر خرچ کیا۔آپ فرماتے ہیں کہ " یہاں قرض سے مراد یہ ہے کہ کون ہے جو خدا تعالیٰ کو اعمال صالحہ دے۔اللہ تعالیٰ ان کی جزا اسے کئی گنا کر کے دیتا ہے۔"کوئی بھی عمل صالح ہو اللہ کی خاطر بجالاؤ تو اللہ تعالیٰ اسے بڑھا کے دیتا ہے۔صرف روپیہ پیسے کی بات نہیں ہے اور یہ جو بات ہے، فرماتے ہیں " یہ خدا کی شان کے لائق ہے۔جو سلسلہ عبودیت کار بوبیت کے ساتھ ہے۔اس پر غور کرنے سے اس کا یہ مفہوم صاف سمجھ میں آتا ہے کیونکہ خدا تعالیٰ بدوں کسی نیکی، دعا اور التجا اور بدوں تفرقہ کافر و مومن کے ہر ایک کی پرورش فرمارہا ہے۔اللہ تعالیٰ تو ہر ایک کی پرورش کر رہا ہے قطع نظر اس کے کوئی کافر ہے یا مومن ہے " اور اپنی ربوبیت اور رحمانیت کے فیض سے سب کو فیض پہنچا رہا ہے۔پھر وہ کسی کی نیکیوں کو کب ضائع کرے گا؟" جب بغیر کسی نیکی کے، بغیر کسی کام کے اللہ تعالیٰ سب کو پال رہا ہے اور دے رہا ہے تو پھر جب کوئی نیکی کرے گا اور عمل صالح کرے گا تو اس کو کس طرح ہو سکتا ہے