خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 18 of 917

خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء) — Page 18

خطبات مسرور جلد 19 18 2 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 08 جنوری 2021ء خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 08 جنوری 2021ء بمطابق 108 صلح 1400 ہجری شمسی بمقام مسجد مبارک، اسلام آباد، ملفورڈ (سرے)، یوکے تشہد و تعوذ اور سورۃ الفاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اس آیات کی تلاوت فرمائی: مَن ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللهَ قَرْضًا حَسَنًا فَيُضْعِفَهُ لَهُ أَضْعَافًا كَثِيرَةً ۖ وَاللَّهُ يَقْبِضُ وَيَبْضُطُ وَ إِلَيْهِ تُرْجَعُونَ۔(البقرة:246) کون ہے جو اللہ کو قرضہ حسنہ دے تاکہ وہ اس کے لیے اسے کئی گنا بڑھائے اور اللہ رزق قبض بھی کر لیتا ہے اور کھول بھی دیتا ہے اور تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔اللہ تعالیٰ کو قرض دینے کا مفہوم: اس آیت میں اللہ تعالیٰ کو قرض دینے کا ذکر ہے۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ نعوذ باللہ اللہ تعالیٰ کو انسانی پیسے کی ضرورت ہے اور اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے وہ قرض مانگ رہا ہے۔قرض کے ایک تو عام معنی ہیں جو ہم قرض کے لین دین میں استعمال کرتے ہیں ، کسی سے ادھار لیا دیا لیکن اس کے لغوی معنی اچھے یا برے بدلے کے بھی ہیں۔یہاں اس کے معنی ہوں گے کہ کون ہے جو اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرتا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ اس کا اس کو بہترین بدلہ دے۔پس جہاں اللہ تعالیٰ کے لیے خرچ کرنے یا دینے کا سوال اٹھتا ہے تو اس لیے کہ اللہ تعالیٰ اس کام کو کرنے والے کو بہترین بدلہ عطا فرماتا ہے۔یعنی اگر اللہ تعالیٰ کے لیے خرچ کر رہے ہیں، اللہ تعالیٰ کو دے رہے ہیں تو اللہ تعالیٰ اس کا بہترین بدلہ عطا فرماتا ہے۔قرآن کریم میں اور بھی بہت سی جگہ قربانیوں اور مالی قربانیوں کا ذکر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے اور اللہ تعالیٰ کے دین کی خاطر یا اللہ تعالیٰ کی مخلوق کی بہتری کی خاطر خرچ کرنے کو خود اللہ تعالیٰ کی خاطر خرچ کرنے کے برابر ٹھہرایا گیا ہے۔اور جو چیز خدا تعالیٰ کی خاطر خرچ کی جائے وہ ضائع نہیں جاتی بلکہ یہ ایسا قرض ہے جسے اللہ تعالیٰ کئی گنا بڑھا کر لوٹاتا ہے۔پس کوئی یہ نہ سمجھے کہ اللہ تعالیٰ کو کسی قرض کی ضرورت ہے۔اللہ تعالیٰ تو خود ربّ ہے ، تمام جہان کو پالنے والا ہے اور دینے والا ہے۔اس کو کسی کی حاجت نہیں ہے۔وہ جب اپنے لیے قرض کا لفظ استعمال کرتا ہے تو مطلب ہے کہ میرے راستے میں خرچ کرو اور میرے بے شمار انعامات حاصل کرنے والے بنو۔کون ہے جو مجھے قرضہ حسنہ دے؟ یہ سوال اٹھا کر اس طرف ترغیب دلائی گئی ہے کہ کون ہے جو میرے راستے میں خرچ کر کے میرے بے شمار انعاموں کا وارث بنے اور بنتا چلا جائے ؟ اور آگے خود ہی اس کی وضاحت بھی فرما دی