خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 20 of 917

خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء) — Page 20

خطبات مسرور جلد 19 20 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 08 جنوری 2021ء کہ اللہ تعالیٰ ضائع کرے اور اس کا اجر نہ دے۔" اس کی شان تو یہ ہے مَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرَ ايَّرَهُ (الزلزال:8) جو ذرہ بھی نیکی کرے اس کا بھی اجر دیتا ہے اور جو ذرہ بدی کرے گا اس کی پاداش بھی ملے گی۔یہ ہے قرض کا اصل مفہوم جو اس آیت سے پایا جاتا ہے۔چونکہ اصل مفہوم قرض کا اس سے پایا جاتا تھا اس لیے یہی کہہ دیا: مَن ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللهَ قَرْضًا حَسَنًا۔(البقرة: 246) اور اس کی تفسیر اس آیت میں موجود ہے: مَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ۔(الزلزال:8)" کہ جو ذرہ بھی نیکی کرتا ہے اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کا بدلہ ہے۔لملفوظات جلد 1 صفحہ 226-227) پس اللہ تعالیٰ کے دین کی اشاعت کے لیے مخلوق کی خدمت کے لیے مالی قربانی کرنا بھی ایک بہت بڑی نیکی ہے اور اللہ تعالیٰ کبھی اسے بغیر اجر کے نہیں چھوڑتا۔دوسری جگہ پر قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر بھی فرمایا ہے۔مالی قربانیوں کے سلسلہ میں تو افراد جماعت سے بہتر اور کون جان سکتا ہے۔ہر طبقہ کے احمدی کا ذاتی تجربہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی خاطر، اللہ تعالیٰ کی رضا چاہنے کے لیے اس کی راہ میں خرچ کرنا جہاں دل کے سکون کا باعث بنتا ہے وہاں دنیاوی لحاظ سے بھی ہزاروں لوگ اس تجربہ سے گزرتے ہیں کہ حیرت انگیز طور پر اللہ تعالیٰ وہ رقم جو انہوں نے اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر دی ہوتی ہے واپس لوٹاتا ہے۔ایسے بہت سے احمدی ہیں جو صرف قربانی کرتے ہیں یعنی قربانی کے نام پہ قربانی کرتے ہیں اور صرف یہ خواہش ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ راضی ہو جائے۔ان کے دل میں یہ خیال بھی نہیں ہو تاکہ اس کا بدلہ انہیں دنیا میں یا دنیاوی مال کی صورت میں مل جائے گا لیکن اللہ تعالیٰ جو فرماتا ہے کہ میں احسن رنگ میں اس کو لوٹاؤں گا وہ لوٹا دیتا ہے۔بعض ایسے بھی ہیں جو بُرے حالات کے باوجود قربانی کر دیتے ہیں اور یہ امید رکھتے ہیں کہ خدا تعالیٰ ان کی اپنی ضروریات کسی نہ کسی طرح پوری کر ہی دے گا اور اللہ تعالیٰ ان کی اس امید کو بھی پوری کر دیتا ہے اور ان کو بھی حیرت ہوتی ہے کہ کس طرح خدا تعالیٰ نے ضرورت پوری کر دی لیکن شرط یہ ہے کہ نیک نیتی سے خدا تعالیٰ کی رضا کی خاطر قربانی کی جائے اور اس کے لیے باقی احکامات اور نیکیوں کو بھی بجالایا جائے۔یہ نہیں کہ صرف مال دے دیا اور سمجھ لیا کہ میں نے بہت قربانی کر دی، باقی فرائض پورے کر دیے۔باقی نیکیاں بجالانا بھی ضروری ہے۔نہ کہ ایک کاروباری شخص کی طرح صرف اس سوچ کے ساتھ مال خرچ ہو کہ اس کا منافع لینا ہے، اللہ تعالیٰ کی راہ میں دے دو منافع مل جائے گا۔انفاق فی سبیل اللہ کرنے والوں کے واقعات: بہر حال میں اس وقت بعض لوگوں کے اپنے واقعات پیش کرتا ہوں جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد سے فیض پایا۔اکثر ایسے واقعات ہیں جن میں خالص ہو کر انہوں نے اللہ تعالیٰ کی خاطر قربانی دی اور حیرت انگیز طور پر ان کی ضروریات کو نہ صرف اللہ تعالیٰ نے پورا کیا بلکہ بڑھا کر دیا۔بہت سے ایسے ہیں جنہوں نے اس بات کی بھی