خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء) — Page 332
خطبات مسرور جلد 19 332 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 04 جون 2021ء پتھر آگئی تھیں اور کلیجے منہ کو آتے تھے مگر آج یہی قریش تمہارے ساتھ امن و امان کا معاہدہ کر رہے ہیں۔صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ہم سمجھ گئے۔ہم سمجھ گئے۔جہاں تک آپ کی نظر پہنچی ہے وہاں تک ہماری نظر نہیں پہنچتی مگر اب ہم نے سمجھ لیا ہے کہ واقعی یہ معاہدہ ہمارے لئے ایک بھاری فتح ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اس تقریر سے پہلے حضرت عمر بھی بڑے پیچ و تاب میں تھے۔چنانچہ وہ خود بیان کرتے ہیں کہ حدیبیہ کی واپسی پر جب کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت سفر میں تھے تو اس وقت میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے کچھ عرض کرنا چاہا مگر آپ خاموش رہے۔میں نے دوبارہ سہ بارہ عرض کیا مگر آپ بدستور خاموش رہے۔مجھے آنحضرت کی اس خاموشی پر بہت غم ہوا اور میں اپنے نفس میں یہ کہتا ہوا کہ عمر تو تو ہلاک ہو گیا کہ تین دفعہ تو نے رسول اللہ کو مخاطب کیا مگر آپ نہیں بولے۔چنانچہ میں مسلمانوں کی جمعیت میں سے سب سے آگے نکل آیا اور اس غم میں پیچ و تاب کھانے لگا کہ کیا بات ہے؟ اور مجھے ڈر پیدا ہوا کہ کہیں میرے بارے میں کوئی قرآنی آیت نازل نہ ہو جائے۔اتنے میں کسی شخص نے میر انام لے کر آواز دی کہ عمر بن خطاب کو رسول اللہ نے یاد فرمایا ہے۔میں نے کہا کہ بس ہو نہ ہو میرے متعلق کوئی قرآنی آیت نازل ہوئی ہے۔چنانچہ میں گھبرایا ہو ا جلدی جلدی رسول اللہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور سلام عرض کر کے آپ کے پہلو میں آگیا۔آپ نے فرمایا: مجھ پر اس وقت ایک ایسی سورت نازل ہوئی ہے جو مجھے دنیا کی تمام چیزوں سے زیادہ محبوب ہے۔پھر آپ نے سورہ فتح کی آیات تلاوت فرمائیں۔حضرت عمر نے عرض کیا۔یار سول اللہ! کیا یہ صلح واقعی اسلام کی فتح ہے ؟ آپ نے فرمایا: ہاں یقینا یہ ہماری فتح ہے۔اس پر حضرت عمر تسلی پاکر خاموش ہو گئے۔اس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں واپس تشریف لے آئے۔" (سیرت خاتم النبیین صفحہ 770 تا 772) (فرہنگ سیرت صفحہ 200، 243) حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ " صلح حدیبیہ کے موقع پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکین مکہ سے صلح کر لی جس کی وجہ سے صحابہ کے اندر اس قدر بے چینی پیدا ہو گئی کہ حضرت عمر جیسا آدمی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا اور انہوں نے کہا کہ یارسول اللہ ! کیا اللہ تعالیٰ نے آپ سے وعدہ نہیں کیا تھا کہ ہم طواف کعبہ کریں گے یا کیا اسلام کے لئے غلبہ مقدر نہیں تھا؟ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیوں نہیں ! حضرت عمرؓ نے کہا پھر ہم نے دب کر صلح کیوں کر لی؟ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے شک خدا تعالیٰ نے وعدہ کیا تھا کہ ہم طواف کریں گے مگر یہ نہیں تھا کہ اسی سال کریں گے۔" (خطبات محمود جلد 30 صفحہ 220) حضرت عمرؓ کا یہ ذکر ابھی چل رہا ہے۔ان شاء اللہ آئندہ بھی چلتا جائے گا۔اس وقت میں کچھ مرحومین کا ذکر کروں گا جن کے جنازے پڑھانے ہیں۔اس میں سے پہلا ذکر مکرم ملک محمد یوسف سلیم صاحب کا ہے جو شعبہ زود نویسی کے انچارج تھے۔چھیاسی 86 سال کی عمر میں ان کی وفات ہوئی۔اِنَّا لِلَّهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَجِعُوْنَ۔آپ اپنے خاندان میں اکیلے احمدی تھے۔انہوں نے 1952ء میں احمدیت قبول کی تھی۔ان کے بڑے بھائی نے ان کو ریل میں