خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء) — Page 331
خطبات مسرور جلد 19 331 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 04 جون 2021ء ہو چکے تھے۔جب آپ واپسی سفر میں عُسفان کے قریب كُرَامُ الغَمِیم میں پہنچے۔"عسفان مکہ سے 103 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے اور كُرَامُ الْغَمِيم، عُسفان سے آٹھ میل کے فاصلے پر ایک وادی ہے۔" اور یہ رات کا وقت تھا تو اعلان کرا کے صحابہ کو جمع کروایا' آپ نے " اور فرمایا کہ آج رات مجھ پر ایک سورت نازل ہوئی ہے جو مجھے دنیا کی سب چیزوں سے زیادہ محبوب ہے اور وہ یہ ہے۔" سورہ فتح کے بارے میں۔" إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِينًا لِيَغْفِرَ لَكَ اللهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَرَ وَيُتِمَّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكَ وَيَهْدِيَكَ صِرَاطًا مُسْتَقِيمًا وَيَنْصُرَكَ اللهُ نَصْرًا عَزِيزًا۔۔۔" (الفتح: 2-4 ) - سورہ فتح کی یہ دو سے چار آیتیں ہیں۔پھر اسی طرح چلتا ہے اور اٹھا ئیسویں آیت یہ ہے کہ : "لَقَدْ صَدَقَ اللهُ رَسُوْلَهُ الرُّؤْيَا بِالْحَقِّ لَتَدْخُلُنَّ الْمَسْجِدِ الْحَرَامَ إِنْ شَاءَ اللهُ أَمِنِيْنَ مُخَلْقِيْنَ رُءُوسَكُمْ وَمُقَصِّرِينَ لَا تَخَافُونَ۔" (الفتح: 28) " یعنی اے رسول! ہم نے تجھے ایک عظیم الشان فتح عطا کی ہے تاکہ ہم تیرے لئے ایک ایسے دور کا آغاز کرا دیں جس میں تیری انگلی اور پچھلی سب کمزوریوں پر مغفرت کا پردہ پڑ جائے اور تا خدا اپنی نعمت کو تجھ پر کامل کرے اور تیرے لئے کامیابی کے سیدھے رستے کھول دے اور ضرور خدا تعالیٰ تیری زبر دست نصرت فرمائے گا۔۔۔حق یہ ہے کہ خدا نے اپنے رسول کی اس خواب کو پورا کر دیا جو اس نے رسول کو دکھائی تھی۔کیونکہ اب تم انشاء اللہ ضرور ضرور امن کی حالت میں مسجد حرام میں داخل ہو گے اور قربانیوں کو خدا کی راہ میں پیش کر کے اپنے سر کے بالوں کو منڈواؤ گے یا کتر واؤ گے اور تم پر کوئی خوف نہیں ہو گا۔یعنی اگر تم اس سال مکہ میں داخل ہو جاتے تو یہ داخلہ امن کا نہ ہو تا بلکہ جنگ اور خون ریزی کا داخلہ ہو تا مگر خدا نے خواب میں امن کا داخلہ دکھایا تھا۔اس لئے خدا نے اس سال معاہدہ کے نتیجہ میں امن کی صورت پیدا کر دی ہے اور اب عنقریب تم خدا کی دکھائی ہوئی خواب کے مطابق امن کی حالت میں مسجد حرام میں داخل ہو گے۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔جب آپ نے یہ آیات صحابہ کو سنائیں تو چونکہ بعض صحابہ کے دل میں ابھی تک صلح حدیبیہ کی تلخی باقی تھی وہ حیران ہوئے کہ ہم تو بظاہر ناکام ہو کر واپس جارہے ہیں اور خدا ہمیں فتح کی مبارک باد دے رہا ہے حتی کہ بعض جلد باز صحابہ نے اس قسم کے الفاظ بھی کہے کہ کیا یہ فتح ہے کہ ہم طواف بیت اللہ سے محروم ہو کر واپس جارہے ہیں ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تک یہ بات پہنچی تو آپ نے بہت ناراضگی کا اظہار فرمایا اور ایک مختصر سی تقریر میں جوش کے ساتھ فرمایا: یہ بہت بیہودہ اعتراض ہے کیونکہ غور کیا جائے تو واقعی حدیبیہ کی صلح ہمارے لئے ایک بڑی بھاری فتح ہے۔قریش جو ہمارے خلاف میدان جنگ میں اترے ہوئے تھے انہوں نے خود جنگ کو ترک کر کے امن کا معاہدہ کر لیا ہے اور آئندہ سال ہمارے لئے مکہ کے دروازے کھول دینے کا وعدہ کیا ہے اور ہم امن و سلامتی کے ساتھ اہل مکہ کی فتنہ انگیزیوں سے محفوظ ہو کر اور آئندہ فتوحات کی خوشبو پاتے ہوئے واپس جارہے ہیں۔پس یقینا یہ ایک عظیم الشان فتح ہے۔کیا تم لوگ ان نظاروں کو بھول گئے کہ یہی قریش احد اور احزاب کی جنگوں میں کس طرح تمہارے خلاف چڑھائیاں کر کر کے آئے تھے اور یہ زمین باوجود فراخی کے تم پر تنگ ہو گئی تھی اور تمہاری آنکھیں