خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 330 of 917

خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء) — Page 330

خطبات مسرور جلد 19 330 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 04 جون 2021ء سخت ندامت ہوئی اور میں تو بہ کے رنگ میں اس کمزوری کے اثر کو دھونے کے لئے بہت سے نفلی اعمال بجالا یا۔یعنی صدقے کئے، روزے رکھے، نفلی نمازیں پڑھیں اور غلام آزاد کئے تاکہ میری اس کمزوری کا داغ دھل جائے۔" (سیرت خاتم النبیین از حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے صفحہ 766 تا 768) حضرت خلیفة المسیح الرائع نے جلسہ پر اپنی خلافت سے پہلے ایک تقریر کی تھی۔جلسہ پر تقریر کیا کرتے تھے۔اُس کا اِس تعلق میں ایک حصہ میں بیان کرتا ہوں۔کہتے ہیں کہ " اس میں کوئی شبہ نہیں کہ درد و کرب کی وہ چیخ جو سوال بن کر حضرت عمرؓ کے دل سے نکلی دوسرے بہت سے سینوں میں بھی گھٹی ہوئی تھی۔اگر چہ اس میں کوئی شک نہیں کہ جن جذبات کو عمرؓ نے زبان دی تھی وہ صرف ایک عمر ہی کے جذبات نہیں بلکہ اوروں کے بھی تھے اور سینکڑوں سینوں میں اسی قسم کے خیالات ہیجان برپا کئے ہوئے تھے لیکن حضرت عمرؓ نے جو ان کے اظہار کی جرات کی، یہ ایک ایسی چوک ہو گئی کہ بعد ازاں عمر بھر حضرت عمرؓ اس سے پشیمان رہے۔بہت روزے رکھے۔بہت عبادتیں کیں۔بہت صدقات دیئے اور استغفار کرتے ہوئے سجدہ گاہوں کو تر کیا لیکن پشیمانی کی پیاس نہ بجھی۔حدیبیہ کا اضطراب تو عارضی تھا جسے بہت جلد آسمان سے نازل ہونے والی رحمتوں نے طمانیت میں بدل دیا مگر وہ اضطراب جو اس بے صبری کے سوال نے عمر کے دل میں پیدا کیا وہ ایک دائمی اضطراب بن گیا جس نے کبھی آپ کا ساتھ نہ چھوڑا۔ہمیشہ حسرت سے یہی کہتے رہے کہ کاش میں نے آنحضور سے وہ سوال نہ کیا ہوتا۔" کہتے ہیں کہ " بارہا میں یہ سوچتا ہوں کہ بستر مرگ پر آخری سانسوں میں حضرت عمرؓ جب لالنى وَلَا عَلَى کا ورد کر رہے تھے کہ اے خدا! میں تجھ سے اپنی نیکیوں کا بدلہ نہیں مانگتا تو میری خطائیں معاف کر دے تو سب خطاؤں سے بڑھ کر اس ایک خطا کا تصور آپ کو بے چین کئے ہوئے ہو گا جو میدان حدیبیہ میں آپ سے سرزد ہوئی۔صلح نامہ کی تحریر کے دوران صحابہ کی بے چینی اور دل شکستگی کا عالم دیکھ کر آنحضور کے دل کی کیفیت کا راز آپ کے آسمانی آقا اور بیحد محبت کر نیوالے رفیق اعلیٰ کے سوا اور کوئی نہیں جانتا لیکن ان تین سادہ سے جملوں میں جو عمر کے جواب میں آپ کی زبان مبارک سے نکلے آپ نے غور کرنے والوں کے لئے بہت کچھ فرما دیا۔" صلح۔حدیبیه (خطابات طاہر ( تقاریر جلسہ سالانه قبل از خلافت) صفحه 428) کے موقع پر مسلمانوں اور قریش مکہ کے درمیان جو معاہدہ ہوا اس پر حضرت عمرؓ کے بھی دستخط تھے۔اس بارے میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب لکھتے ہیں کہ " اس معاہدہ کی دو نقلیں کی گئیں اور بطور گواہ کے فریقین کے متعدد معززین نے ان پر اپنے دستخط ثبت کئے۔مسلمانوں کی طرف سے دستخط کرنے والوں میں حضرت ابو بکر، حضرت عمرؓ، حضرت عثمان۔۔۔۔۔۔۔عبد الرحمن بن عوف، سعد بن ابی وقاص اور ابو عبیدہ تھے۔معاہدہ کی تکمیل کے بعد سہیل بن عمر و معاہدہ کی ایک نقل لے کر مکہ کی طرف واپس لوٹ گیا اور دوسری نقل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس رہی۔" سیرت خاتم النبیین از حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے صفحہ 769) صلح حدیبیہ سے واپسی کے بارے میں سیرت خاتم النبیین میں لکھا ہے کہ " قربانی وغیرہ سے فارغ ہو کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کی طرف واپسی کا حکم دیا۔اس وقت آپ کو حدیبیہ میں آئے کچھ کم ہیں یوم