خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء) — Page 329
خطبات مسرور جلد 19 329 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 04 جون 2021ء اس معاہدہ کی کارروائی ختم سمجھیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا" معاملہ کو ختم کرنے کے لیے کہ "آؤ آؤ۔جانے دو اور ہمیں احسان و مروت کے طور پر ہی ابو جندل کو دے دو۔سہیل نے کہا نہیں نہیں یہ کبھی نہیں ہو گا۔آپ نے فرمایا سہیل ! ضد نہ کرو میری یہ بات مان لو۔سہیل نے کہا میں یہ بات ہر گز نہیں مان سکتا۔اس موقع پر ابو جندل نے پھر پکار کر کہا اے مسلمانو! کیا تمہارا ایک مسلمان بھائی اس شدید عذاب کی حالت میں مشرکوں کی طرف واپس لوٹا دیا جائے گا؟ یہ ایک عجیب بات ہے کہ اس وقت ابو جندل نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اپیل نہیں کی بلکہ عامۃ المسلمین سے اپیل کی جس کی وجہ غالباً یہ تھی کہ وہ جانتا تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں خواہ کتنا ہی درد ہو آپ کسی صورت میں معاہدہ کی کارروائی میں رخنہ نہیں پید اہونے دیں گے۔مگر غالباً عامة المسلمین سے وہ یہ توقع رکھتا تھا کہ وہ شاید غیرت میں آکر اس وقت جبکہ ابھی معاہدہ کی شرطیں لکھی جارہی تھیں کوئی ایسا رستہ نکال لیں جس میں اس کی رہائی کی صورت پیدا ہو جائے مگر مسلمان خواہ کیسے ہی جوش میں تھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مرضی کے خلاف کوئی قدم نہیں اٹھا سکتے تھے۔آپ نے کچھ وقت خاموش رہ کر ابو جندل سے درد مند انہ الفاظ میں فرمایا۔اے ابو جندل ! صبر سے کام لو اور خدا کی طرف نظر رکھو۔خدا تمہارے لئے اور تمہارے ساتھ کے دوسرے کمزور مسلمانوں کے لیے ضرور خود کوئی رستہ کھول دے گا لیکن ہم اس وقت مجبور ہیں کیونکہ اہل مکہ کے ساتھ معاہدہ کی بات ہو چکی ہے اور ہم اس معاہدہ کے خلاف کوئی قدم نہیں اٹھا سکتے۔مسلمان یہ نظارہ دیکھ رہے تھے اور مذہبی غیرت سے ان کی آنکھوں میں خون اتر رہا تھا مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سہم کر خاموش تھے۔آخر حضرت عمرؓ سے نہ رہا گیا۔وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب آئے اور کانپتی ہوئی آواز میں فرمایا: کیا آپ خدا کے برحق رسول نہیں ؟ آپ نے فرمایا: ہاں ہاں ضرور ہوں۔عمرؓ نے کہا: کیا ہم حق پر نہیں اور ہمارا دشمن باطل پر نہیں ؟ آپ نے فرمایا: ہاں ہاں ضرور ایسا ہی ہے۔عمرؓ نے کہا تو پھر ہم اپنے سچے دین کے معاملہ میں یہ ذلت کیوں برداشت کریں ؟ آپ نے حضرت عمر کی حالت کو دیکھ کر مختصر الفاظ میں فرمایا دیکھو عمر میں خدا کا رسول ہوں اور میں خدا کے منشاء کو جانتا ہوں اور اس کے خلاف نہیں چل سکتا اور وہی میر امددگار ہے یعنی اللہ تعالیٰ ہی میرا مددگار ہے۔"مگر حضرت عمر کی طبیعت کا تلاطم لحظہ بہ لحظہ بڑھتا جار ہا تھا۔کہنے لگے کیا آپ نے ہم سے یہ نہیں فرمایا تھا کہ ہم بیت اللہ کا طواف کریں گے ؟ آپ نے فرمایا ہاں میں نے ضرور کہا تھا مگر کیا میں نے یہ بھی کہا تھا کہ یہ طواف ضرور اسی سال ہو گا ؟ عمر نے کہا نہیں ایسا تو نہیں کہا۔آپ نے فرمایا تو پھر انتظار کرو تم انشاءاللہ ضرور مکہ میں داخل ہو گے اور کعبہ کا طواف کرو گے۔مگر اس جوش کے عالم میں حضرت عمرؓ کی تسلی نہیں ہوئی لیکن چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خاص رعب تھا اس لئے حضرت عمر وہاں سے ہٹ کر حضرت ابو بکر کے پاس آئے اور ان کے ساتھ بھی اسی قسم کی جوش کی باتیں کیں۔حضرت ابو بکر نے بھی اسی قسم کے جواب دیئے مگر ساتھ ہی حضرت ابو بکڑ نے نصیحت کے رنگ میں فرمایا۔دیکھو عمر سنبھل کر ر ہو اور رسولِ خدا کی رکاب پر جو ہاتھ تم نے رکھا ہے اسے ڈھیلا نہ ہونے دو کیونکہ خدا کی قسم یہ شخص جس کے ہاتھ میں ہم نے اپنا ہاتھ دیا ہے بہر حال سچا ہے۔حضرت عمر" کہتے ہیں کہ اس وقت میں اپنے جوش میں یہ ساری باتیں کہہ تو گیا مگر بعد میں مجھے