خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 328 of 917

خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء) — Page 328

خطبات مسرور جلد 19 328 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 04 جون 2021ء ہے کہ چار نمازیں فوت ہو گئی تھیں۔چار نمازیں تو خود شرع کی رو سے جمع ہو سکتی ہیں یعنی ظہر اور عصر۔اور مغرب اور عشاء۔ہاں ایک روایت ضعیف میں ہے کہ ظہر اور عصر اور مغرب اور عشاء اکٹھی کر کے پڑھی گئی تھیں لیکن دوسری صحیح حدیثیں اس کو رد کرتی ہیں اور صرف یہی ثابت ہوتا ہے کہ عصر تنگ وقت میں پڑھی گئی تھی۔" ( نور القرآن نمبر 2: روحانی خزائن جلد 9 صفحہ 389-390) صلح حدیبیہ کے تعلق میں حضرت عمرؓ کے کردار کے بارے میں جو لکھا گیا ہے وہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر بن خطاب کو بلایا تا کہ وہ انہیں مکہ بھیجیں اور وہ اشراف قریش کو بتائیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کس لیے تشریف لائے ہیں۔حضرت عمرؓ نے عرض کیا یار سول اللہ ! مجھ کو قریش سے اپنی جان کا خوف ہے کیونکہ وہ میرے ان سے عداوت کے حال سے واقف ہیں۔ان کو پتہ ہے کہ میں قریش کا کتناد شمن ہوں۔میں جس قدر ان پر سختی کرتا ہوں اور میری قوم بنو عدی بن کعب میں سے بھی کوئی مکہ میں نہیں ہے جو مجھے بچائے۔اس لیے انہوں نے کچھ تھوڑا سا انقباض کا اظہار کیا۔ایک روایت کے مطابق حضرت عمرؓ نے اس موقع پر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں یہ بھی عرض کیا یارسول اللہ ! اگر آپ پسند فرماتے ہیں تو میں ان کے پاس چلا جاتا ہوں تاہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ نہ فرمایا۔حضرت عمرؓ نے مزید عرض کیا کہ میں آپ کو ایسا شخص بتاتا ہوں جو قریش کے نزدیک مجھ سے زیادہ معزز ہے یعنی حضرت عثمان بن عفان۔تب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے عثمان کو طلب کیا اور ابوسفیان اور دیگر اشراف قریش کے پاس بھیجا تا کہ عثمان ان کو خبر دیں کہ حضور جنگ کے واسطے نہیں آئے۔آپ صرف زیارت کعبہ اور اس کی حرمت کی تعظیم کی خاطر تشریف لائے ہیں۔(سیرت ابن هشام صفحه 685 دار الكتب العلمية بيروت 2001) (سبل الهدى والرشاد جلد 5 صفحه 46 في غزوة الحديبية دار الكتب العلمية بيروت 1993ء) اس کی یہ تفصیل حضرت عثمان کے ضمن میں بیان ہو چکی ہے۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے لکھا ہے کہ جب صلح حدیبیہ کی شرائط لکھی جارہی تھیں تو اس دوران " قریش مکہ کے سفیر سہیل بن عمر و کالڑ کا ابو جندل بیٹریوں اور ہتھکڑیوں میں جکڑا ہوا اس مجلس میں گرتا پڑتا آ پہنچا۔اس نوجوان کو اہل مکہ نے مسلمان ہونے پر قید کر لیا تھا اور سخت عذاب میں مبتلا کر رکھا تھا۔جب اسے معلوم ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مکہ کے اس قدر قریب تشریف لائے ہوئے ہیں تو وہ کسی طرح اہل مکہ کی قید سے چھوٹ کر اپنی بیڑیوں میں جکڑا ہوا اگر تا پڑ تا حدیبیہ میں پہنچ گیا اور اتفاق سے پہنچا بھی اس وقت جب کہ اس کا باپ معاہدہ کی یہ شرط لکھا رہا تھا کہ ہر شخص جو مکہ والوں میں سے مسلمانوں کی طرف آئے وہ خواہ مسلمان ہی ہو اسے واپس کو ٹادیا جائے گا۔ابو جندل نے گرتے پڑتے اپنے آپ کو مسلمانوں کے سامنے لاڈالا اور دردناک آواز میں پکار کر کہا کہ اے مسلمانو! مجھے محض اسلام کی وجہ سے یہ عذاب دیا جارہا ہے ، خدا کے لئے مجھے بچاؤ۔مسلمان اس نظارہ کو دیکھ کر تڑپ اٹھے مگر سہیل بھی اپنی ضد پر اڑ گیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کہنے لگا۔یہ پہلا مطالبہ ہے جو میں اس معاہدہ کے مطابق آپ سے کرتا ہوں اور وہ یہ کہ ابو جندل کو میرے حوالہ کر دیں۔آپ نے فرمایا' ابھی تو معاہدہ تکمیل کو نہیں پہنچا۔" ابھی تو بات ہو رہی ہے کوئی فائنل تو نہیں ہوا۔" سہیل نے کہا اگر آپ نے ابوجندل کو نہ کوٹا یا تو پھر