خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 327 of 917

خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء) — Page 327

خطبات مسرور جلد 19 327 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 04 جون 2021ء آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی ساتھ تھے۔(صحیح بخاری کتاب مواقيت الصلوة باب قضاء الصلوات الاولى فالاولى، حدیث 598) پھر حضرت علی نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خندق کے موقع پر فرمایا: اللہ ان کافروں کے لیے ان کے گھر اور ان کی قبریں آگ سے بھر دے۔انہوں نے ہمیں مصروف رکھا اور صلوۃ وسطی یعنی در میانی نماز کا موقع نہیں دیا یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا۔(صحیح بخاری کتاب المغازی باب غزوة الخندق و هى الاحزاب، حدیث 4111) حضرت علی کی یہ روایت بھی بخاری کی ہے۔پھر ابو عبیدہ بن عبد اللہ اپنے والد سے یہ روایت کرتے ہیں کہ خندق کے دن مشرکین نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو چار نمازوں سے روکے رکھا یہاں تک کہ رات کا حصہ جتنا اللہ نے چاہا گزر گیا۔راوی کہتے ہیں کہ آپ نے حضرت بلال کو ارشاد فرمایا تو انہوں نے اذان دی۔پھر آپ نے اقامت کا ارشاد فرمایا اور ظہر کی نماز پڑھائی۔پھر اقامت کا ارشاد فرمایا اور عصر کی نماز پڑھائی۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اقامت کا ارشاد فرمایا اور مغرب کی نماز پڑھائی۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اقامت کا ارشاد فرمایا اور عشاء کی نماز پڑھائی۔یہ مسند احمد بن حنبل کی روایت ہے۔(مسند احمد بن حنبل جلد 2 صفحه 7-6 ، مسند عبد ا الله بن مسعود حديث ،3555، عالم الكتب بيروت 1998ء) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ان تمام روایات کو ضعیف قرار دیتے ہوئے صرف ایک روایت کو درست قرار دیا ہے جس میں عصر کی نماز معمول سے تنگ وقت میں پڑھنے کا ذکر ہے۔چنانچہ جنگ خندق میں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی چار نمازیں قضا کرنے پر پادری فتح مسیح کے اعتراض کا جواب دیتے ہوئے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ : " آپ کا یہ شیطانی وسوسہ کہ خندق کھودنے کے وقت چاروں نمازیں قضا کی گئیں اول آپ لوگوں کی علمیت تو یہ ہے کہ قضا کا لفظ استعمال کیا ہے۔اے نادان قضا نماز ادا کرنے کو کہتے ہیں۔" چھوڑنے کو نہیں کہتے۔" ترک نماز کا نام قضا ہر گز نہیں ہوتا۔اگر کسی کی نماز ترک ہو جاوے تو اس کا نام فوت ہے " یعنی نماز فوت ہو گئی۔" اسی لئے ہم نے پانچ ہزار روپے کا اشتہار دیا تھا کہ ایسے بے وقوف بھی اسلام پر اعتراض کرتے ہیں جن کو ابھی تک قضا کے معنی بھی معلوم نہیں۔جو شخص لفظوں کو بھی اپنے محل پر استعمال نہیں کر سکتا وہ نادان کب یہ لیاقت رکھتا ہے کہ امور دقیقہ پر نکتہ چینی کر سکے۔باقی رہا یہ کہ خندق کھودنے کے وقت چار نمازیں جمع کی گئیں اس احمقانہ وسوسہ کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ دین میں حرج نہیں ہے یعنی ایسی سختی نہیں جو انسان کی تباہی کا موجب ہو۔اس لئے اس نے ضرور توں کے وقت اور بلاؤں کی حالت میں نمازوں کے جمع کرنے اور قصر کرنے کا حکم دیا ہے مگر اس مقام میں ہماری کسی معتبر حدیث میں چار جمع کرنے کا ذکر نہیں ہے بلکہ فتح الباری شرح صحیح بخاری میں لکھا ہے کہ واقعہ صرف یہ ہوا تھا کہ ایک نماز یعنی صلوۃ العصر معمول سے تنگ وقت میں ادا کی گئی۔اگر آپ اس وقت ہمارے سامنے ہوتے تو ہم آپ کو ذرہ بٹھا کر پوچھتے " حضرت مسیح موعود علیہ السلام یہ مخالف کو مخاطب کر کے فرمارہے ہیں " کہ کیا یہ متفق علیہ روایت