خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 326 of 917

خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء) — Page 326

خطبات مسرور جلد 19 326 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 04 جون 2021ء اس واقعہ کی تفصیل سیرت خاتم النبیین میں بیان ہوئی ہے جو میں چھوڑ تا ہوں۔یہ پہلے بیان کر چکا ہوں۔بہر حال عبد اللہ بن اُبی کی آخری زمانے کی حالت کا ذکر کرتے ہوئے سیرت ابن ہشام میں لکھا ہے کہ اس کے بعد عبد اللہ بن ابی جب کوئی ایسی ویسی بات کہتا اسی کی قوم اس کو سخت سست کہتی تھی۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب اس کے حالات کا علم ہو ا تو آپ نے حضرت عمر بن خطاب سے فرمایا کہ اے عمر ! جس دن تم نے مجھ سے اس کے قتل کرانے کے واسطے کہا تھا، اجازت مانگی تھی کہ میں قتل کر دوں اگر میں اس کو قتل کر دیتا تو لوگ ناک منہ چڑھاتے اور یہی لوگ جو ناک منہ چڑھانے والے تھے ، اب اگر انہی لوگوں کو میں اس کے قتل کا حکم کروں تو وہ خود اس کو قتل کر دیں گے۔دیکھو صبر کی وجہ سے اور حالات سامنے آنے کی وجہ سے وہی جو اس کے حمایتی تھے آج اس کے خلاف ہو گئے ہیں اور یہ اس کو قتل بھی کر سکتے ہیں۔حضرت عمرؓ کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم امیں نے جان لیا کہ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات برکت کے لحاظ سے میری بات سے بہت عظیم تھی۔(سیرت ابن هشام صفحه 672 دار الكتب العلمية بيروت لبنان 2001ء) رئیس المنافقین عبد اللہ بن اُبی کی نماز جنازہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پڑھنے لگے تو حضرت عمرؓ نے عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو منافقین کی نماز جنازہ سے منع کیا ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے اختیار دیا گیا ہے کہ میں ان کے لیے استغفار کروں یا نہ کروں۔پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی۔پھر جب اللہ تعالیٰ نے ایسے افراد کی نماز جنازہ پڑھنے کی کلیۂ ممانعت فرما دی تو پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے منافقین کی نماز جنازہ پڑھانی بند کر دی تھی۔(الاستيعاب في معرفة الاصحاب جلد 3 صفحه 941 عبد الله بن عبد الله انصاری۔دار الجیل بیروت) ابوسلمہ نے حضرت جابر بن عبد اللہ سے روایت کی کہ حضرت عمر بن خطاب غزوہ خندق کے دن سورج غروب ہونے کے بعد آئے اور کفار قریش کو برا بھلا کہنے لگے۔انہوں نے کہا: یارسول اللہ ! مجھے تو عصر کی نماز بھی نہیں ملی یہاں تک کہ سورج غروب ہونے لگا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بخدا ! میں نے بھی نہیں پڑھی۔اس پر ہم اٹھ کر بطحان کی طرف گئے۔بطحان بھی مدینہ کی وادیوں میں سے ایک وادی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کے لیے وضو کیا اور ہم نے بھی وضو کیا اور سورج غروب ہونے کے بعد عصر کی نماز پڑھی۔پھر آپ نے اس کے بعد مغرب کی نماز پڑھی۔یہ بخاری کی روایت ہے۔(صحيح البخاری کتاب مواقيت الصلوة باب من صلى بالناس جماعة بعد ذهاب الوقت حدیث (596) (معجم البلدان جلد 1 صفحه 529 دار الكتب العلمية بيروت) اس بارے میں یہ بحث چلتی ہے کہ غزوہ خندق کے دوران نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کتنی نمازیں نہیں پڑھ سکے تھے۔اس بارے میں متفرق روایات ملتی ہیں۔چنانچہ ایک روایت یہ ہے کہ حضرت جابر نے بیان کیا کہ حضرت عمرؓ خندق کے دن ان کافروں کو برابھلا کہنے لگے اور کہا مجھے عصر کی نماز نہیں ملی یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا۔کہتے تھے اس پر ہم بطحان میں اتر گئے اور انہوں نے سورج غروب ہونے کے بعد نماز پڑھی۔پھر انہوں نے مغرب کی نماز پڑھی۔یہ بھی بخاری میں ہی روایت ہے۔یعنی پہلی میں یہ ہے کہ