خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء) — Page 325
خطبات مسرور جلد 19 325 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 04 جون 2021ء دیا ایک دم حملہ کر دو۔" اور اس اچانک دھاوے کے نتیجے میں کفار کے پاؤں اکھڑ گئے مگر مسلمانوں نے ایسی ہوشیاری کے ساتھ ان کا گھیر اڈالا کہ ساری کی ساری قوم محصور ہو کر ہتھیار ڈالنے پر مجبور ہو گئی اور صرف دس کفار اور ایک مسلمان کے قتل پر اس جنگ کا جو ایک خطرناک صورت اختیار کر سکتا تھا خاتمہ ہو گیا۔" حضرت مرزا بشیر احمد صاحب مسیرت خاتم النبیین میں لکھتے ہیں کہ اس موقعہ پر یہ ذکر کرنا ضروری ہے کہ اسی غزوہ کے متعلق صحیح بخاری میں ایک روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو مصطلق پر ایسے وقت میں حملہ کیا تھا کہ وہ غفلت کی حالت میں اپنے جانوروں کو پانی پلا رہے تھے مگر غور سے دیکھا جاوے تو یہ روایت مورخین کی روایت کے خلاف نہیں ہے بلکہ یہ در حقیقت دو روایتیں دو مختلف وقتوں سے تعلق رکھتی ہیں یعنی واقعہ یوں ہے کہ جب اسلامی لشکر بنو مصطلق کے قریب پہنچا تو اس وقت چونکہ ان کو یہ معلوم نہیں تھا کہ مسلمان بالکل قریب آگئے ہیں (گو انہیں اسلامی لشکر کی آمد آمد کی اطلاع ضرور ہو چکی تھی وہ اطمینان کے ساتھ ایک بے ترتیبی کی حالت میں پڑے تھے اور اسی حالت کی طرف بخاری کی روایت میں بھی اشارہ ہے لیکن جب ان کو مسلمانوں کے پہنچنے کی اطلاع ہوئی تو وہ اپنی مستقل سابقہ تیاری کے مطابق فور أصف بند ہو کر مقابلہ کے لئے تیار ہو گئے اور یہ وہ حالت ہے جس کا ذکر مؤرخین نے کیا ہے اور اس اختلاف کی یہی تشریح علامہ ابن حجر اور بعض دوسرے محققین نے کی ہے اور یہی درست معلوم ہوتی ہے۔" (سیرت خاتم النبیین از حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے صفحہ 557 تا 559) غزوہ بنو مصطلق سے واپسی پر ایک اور واقعہ بھی ہوا۔صحیح مسلم میں اس کی روایت ہے کہ حضرت جابر بن عبد اللہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوہ یعنی غزوہ بنو مصطلق میں تھے کہ مہاجروں میں سے کسی آدمی نے انصار میں سے کسی آدمی کی پیٹھ پر مارا۔انصاری نے کہا اے انصار ! اور مہاجر نے کہا اے مہاجر و ! یعنی دونوں نے مدد کے لیے اپنے اپنے لوگوں کو بلایا۔انصار نے بھی، مہاجروں نے بھی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تک یہ معاملہ پہنچا اور جب آپ نے یہ شور سنا تو اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ جاہلیت کی آوازیں کیسی ہیں ؟ انہوں نے کہا یار سول اللہ ! مہاجروں میں سے ایک آدمی نے انصار میں سے ایک آدمی کی پیٹھ پر مارا ہے۔اس پر آپ نے فرمایا اس بات کو چھوڑ دو۔یہ گندی بات ہے۔یہ فضول باتیں نہ کیا کرو کہ ذراذراسی بات پر لڑائی جھگڑے شروع کر دو۔جب عبد اللہ بن اُبی نے یہ سنا، وہ بھی وہاں ساتھ تھا تو اس نے کہا کہ انہوں نے تو ایسا کر لیا کہ ایک مہاجر نے انصار کی کمر پر مارا ، چاہے ایک تھپڑ ہی مارا ہو ، دو ہتھڑ ہی مارا ہو لیکن اللہ کی قسم! اگر ہم مدینہ کی طرف لوٹے تو ضرور معزز ترین شخص ( نعوذ باللہ ) ذلیل ترین شخص کو وہاں سے باہر نکال دے گا۔حضرت عمرؓ نے عرض کیا: یا رسول اللہ ! مجھے اجازت دیجیے کہ میں اس منافق کی گردن مار دوں۔اس پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جانے دو۔لوگ یہ باتیں نہ کرنے لگیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھیوں کو قتل کرتا ہے۔(صحیح مسلم كتاب البر والصلة باب نصر الاخ ظالما او مظلوما حديث 6583)