خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 324 of 917

خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء) — Page 324

خطبات مسرور جلد 19 324 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 04 جون 2021ء روانہ فرمایا اور ان کو تاکید فرمائی کہ بہت جلد واپس آکر حقیقت الامر سے آپ کو اطلاع دیں۔بُریدہ گئے تو دیکھا کہ واقعی ایک بہت بڑا اجتماع ہے اور نہایت زور شور سے مدینہ پر حملہ کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔انہوں نے فوراً واپس آکر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دی اور آپ نے حسب عادت مسلمانوں کو پیش قدمی کے طور پر دیار بنو مصطلق کی طرف روانہ ہونے کی تحریک فرمائی اور بہت سے صحابہ آپ کے ساتھ چلنے کو تیار ہو گئے بلکہ ایک بڑا گروہ منافقین کا بھی جو اس سے پہلے اتنی تعداد میں کبھی شامل نہیں ہوئے تھے "وہ بھی " ساتھ ہو گیا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے پیچھے ابو ذر غفاری یا بعض روایات کی رو سے زید بن حارثہ کو مدینہ کا امیر مقرر کر کے اللہ کا نام لیتے ہوئے شعبان 15ھ میں مدینہ سے نکلے۔فوج میں صرف تیس گھوڑے تھے۔البتہ اونٹوں کی تعداد کسی قدر زیادہ تھی اور انہی گھوڑوں اور اونٹوں پر مل جل کر مسلمان باری باری سوار ہوتے تھے۔راستہ میں مسلمانوں کو کفار کا ایک جاسوس مل گیا جسے انہوں نے پکڑ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر کیا اور آپ نے اس تحقیق کے بعد کہ وہ واقعی جاسوس ہے اس سے کفار کے متعلق کچھ حالات وغیرہ دریافت کرنے چاہے مگر اس نے بتانے سے انکار کیا اور چونکہ اس کا رویہ مشتبہ تھا اس لئے مروجہ قانون جنگ کے ماتحت " قانون جنگ جو تھا اس کے ماتحت " حضرت عمرؓ نے اس کو قتل کر دیا اور اس کے بعد لشکر اسلام آگے روانہ ہوا۔بنو مصطلق کو جب مسلمانوں کی آمد آمد کی اطلاع ہوئی اور یہ خبر بھی پہنچی کہ ان کا جاسوس مارا گیا ہے تو وہ بہت خائف ہوئے کیونکہ اصل منشاء ان کا یہ تھا کہ کسی طرح مدینہ پر اچانک حملہ کرنے کا موقعہ مل جائے مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بیدار مغزی کی وجہ سے اب ان کو لینے کے دینے پڑ گئے تھے۔پس وہ بہت مرعوب ہو گئے اور دوسرے قبائل جو ان کی مدد کے لئے ان کے ساتھ جمع ہو گئے تھے وہ تو خدائی تصرف کے ماتحت کچھ ایسے خائف ہوئے کہ فوراً ان کا ساتھ چھوڑ کر اپنے اپنے گھروں کو چلے گئے مگر خود بنو مصطلق کو قریش نے مسلمانوں کی دشمنی کا کچھ ایسا نشہ پلا دیا تھا کہ وہ پھر بھی جنگ کے ارادے سے باز نہ آئے اور پوری تیاری کے ساتھ اسلامی لشکر کے مقابلہ کے لئے آمادہ رہے۔جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مریسیع میں پہنچے جس کے قریب بنو مصطلق کا قیام تھا اور جو ساحل سمندر کے قریب مکہ اور مدینہ کے در میان ایک مقام کا نام ہے تو آپ "صلی اللہ علیہ وسلم " نے ڈیرہ ڈالنے کا حکم دیا اور صف آرائی اور جھنڈوں کی تقسیم وغیرہ کے بعد آپ نے حضرت عمر کو حکم دیا کہ آگے بڑھ کر بنو مصطلق میں یہ اعلان کریں کہ اگر اب بھی وہ اسلام کی عداوت سے باز آجائیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حکومت کو تسلیم کر لیں تو ان کو امن دیا جائے گا اور مسلمان واپس لوٹ جائیں گے۔مگر انہوں نے سختی کے ساتھ انکار کیا اور جنگ کے واسطے تیار ہو گئے۔حتی کہ لکھا ہے کہ سب سے پہلا تیر جو اس جنگ میں چلا یا گیا وہ انہی کے آدمی نے چلایا۔جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی یہ حالت دیکھی تو آپ نے بھی صحابہ کو لڑنے کا حکم دیا۔" جنگ انہوں نے دوسروں نے مخالفین نے، دشمنوں نے شروع کر دی تھی۔" تھوڑی دیر تک فریقین کے درمیان خوب تیز تیر اندازی ہوئی۔جس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو یکلخت دھاوا کر دینے کا حکم