خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء) — Page 323
خطبات مسرور جلد 19 323 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 04 جون 2021ء یہ بھی ایک جگہ روایت میں آتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب قریش کے اس مشورہ کی اطلاع موصول ہوئی تو آپ نے حضرت ابو بکر اور حضرت عمر کو بلایا اور انہیں معاملے سے آگاہ فرمایا۔دونوں نے مشورہ دیا کہ دشمن کے تعاقب میں جانا چاہیے۔(كتاب المغازي للواقدى جلد 1 صفحه 278 غزوة احد دار الكتب العلمية بيروت 2013ء) " چنانچہ احد کے مجاہدین جن میں سے اکثر ز خمی تھے اپنے زخموں کو باندھ کر اپنے آقا کے ساتھ ہو لئے اور لکھا ہے کہ اس موقعہ پر مسلمان ایسی خوشی اور جوش کے ساتھ نکلے کہ جیسے کوئی فاتح لشکر فتح کے بعد دشمن کے تعاقب میں نکلتا ہے۔آٹھ میل کا فاصلہ طے کر کے آپ حمراء الاسد میں پہنچے۔اب چونکہ شام ہو چکی تھی آپ نے یہیں ڈیرا ڈالنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ میدان میں مختلف مقامات پر آگ روشن کر دی جاوے۔چنانچہ دیکھتے ہی دیکھتے حمراء الاسد کے میدان میں پانچ سو آگئیں شعلہ زن ہو گئیں جو ہر دور سے دیکھنے والے کے دل کو مرعوب کرتی تھیں۔غالباً اسی موقعہ پر قبیلہ خزاعہ کا ایک مشرک رئیس معبد نامی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے احد کے مقتولین کے متعلق اظہار ہمدردی کی اور پھر اپنے راستہ پر روانہ ہو گیا۔دوسرے دن جب وہ مقام رؤ حاء میں پہنچاتو کیا دیکھتا ہے کہ قریش کا لشکر وہاں ڈیر اڈالے پڑا ہے اور مدینہ کی طرف واپس چلنے کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔معبد فوراً ابوسفیان کے پاس گیا اور اسے جا کر کہنے لگا کہ تم کیا کرنے لگے ہو ؟ واللہ ! میں تو ابھی محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے لشکر کو حمراء الاسد میں چھوڑ کر آیا ہوں اور ایسا بارعب لشکر میں نے کبھی نہیں دیکھا اور احد کی ہزیمت کی ندامت میں ان کو اتنا جوش ہے کہ تمہیں دیکھتے ہی بھسم کر جائیں گے۔ابوسفیان اور اس کے ساتھیوں پر معبد کی ان باتوں سے ایسا رعب پڑا کہ وہ مدینہ کی طرف کوٹنے کا ارادہ ترک کر کے فورا مکہ کی طرف روانہ ہو گئے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو لشکر قریش کے اس طرح بھاگ نکلنے کی اطلاع موصول ہوئی تو آپ نے خدا کا شکر کیا اور فرمایا کہ یہ خدا کار عب ہے جو اس نے کفار کے دلوں پر مسلط کر دیا ہے۔اس کے بعد آپ نے حمراء الاسد میں دو تین دن اور قیام فرمایا۔" (سیرت خاتم النبيين علی ای ام از حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم۔اے صفحہ 504-505) الله سة غزوہ بنو مصطلق۔غزوہ بنو مصطلق شعبان پانچ ہجری میں ہوا۔اسے غزوہ مُریسیع بھی کہتے ہیں۔اس کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے یوں لکھا ہے کہ : " قریش کی مخالفت دن بدن زیادہ خطرناک صورت اختیار کرتی جاتی تھی۔وہ اپنی ریشہ دوانی سے عرب کے بہت سے قبائل کو اسلام اور بانی اسلام کے خلاف کھڑا کر چکے تھے لیکن اب ان کی عداوت نے ایک نیا خطرہ پیدا کر دیا اور وہ یہ کہ حجاز کے وہ قبائل جو مسلمانوں کے ساتھ اچھے تعلقات رکھتے تھے اب وہ بھی قریش کی فتنہ انگیزی سے مسلمانوں کے خلاف اٹھنے شروع ہو گئے۔اس معاملہ میں پہل کرنے والا مشہور قبیلہ بنو خزاعہ تھا جن کی ایک شاخ بنو مصطلق نے مدینہ کے خلاف حملہ کرنے کی تیاری شروع کر دی اور ان کے رئیس حارث بن ابی ضرار نے اس علاقہ کے دوسرے قبائل میں دورہ کر کے بعض اور قبائل کو بھی اپنے ساتھ ملالیا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو جب اس واقعہ کی اطلاع ملی تو آپ نے مزید احتیاط کے ور پر اپنے ایک صحابی بُریدہ بن حصیب نامی کو دریافت حالات کے لئے " پتہ کرنے کے لیے " بنو مصطلق کی طرف