خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 322 of 917

خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء) — Page 322

خطبات مسرور جلد 19 322 23 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 04 جون 2021ء خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 04 / جون 2021ء بمطابق 04 / احسان 1400 ہجری شمسی بمقام مسجد مبارک، اسلام آباد، ٹلفورڈ (سری)، یوکے تشہد و تعوذ اور سورہ الفاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: گذشتہ خطبات میں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ذکر ہو رہا تھا اور غزوات اور سر ایا کا ذکر تھا۔غزوہ حمراء الاسد کے بارے میں آتا ہے کہ غزوہ احد کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم واپس مدینہ تشریف لے آئے اور کفار نے مکہ کی راہ لی مگر آپ کو قریش کی دوبارہ لشکر کشی کی خبر ملی تو آپ صحابہ کے ساتھ حمراء الاسد مقام تک تشریف لے گئے۔حمراء الاسد مدینہ سے آٹھ میل کے فاصلے پر ایک مقام ہے۔اس غزوہ کے بارے میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے جو تحریر فرمایا ہے وہ اس طرح ہے، کچھ حصہ بیان کرتا ہوں کہ بظاہر لشکر قریش نے مکہ کی راہ لے لی تھی۔یہ اندیشہ تھا کہ ان کا یہ فعل مسلمانوں کو غافل کرنے کی نیت سے نہ ہو اور ایسا نہ ہو کہ وہ اچانک لوٹ کر مدینہ پر حملہ آور ہو جائیں۔لہذا اس رات کو مدینہ میں پہرہ کا انتظام کیا گیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مکان کا خصوصیت سے تمام رات صحابہ نے پہرہ دیا۔صبح ہوئی تو معلوم ہوا کہ یہ اندیشہ محض خیالی نہ تھا کیونکہ فجر کی نماز سے قبل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ اطلاع پہنچی کہ قریش کا لشکر مدینہ سے چند میل جاکر ٹھہر گیا ہے اور رؤسائے قریش میں یہ سرگرم بحث جاری ہے کہ اس فتح سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کیوں نہ مدینہ پر حملہ کر دیا جائے اور بعض قریش ایک دوسرے کو طعنہ دے رہے ہیں کہ نہ تم نے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کو قتل کیا اور نہ مسلمان عورتوں کو لونڈیاں بنایا اور نہ ان کے مال و متاع پر قابض ہوئے بلکہ جب تم ان پر غالب آئے اور تمہیں یہ موقع ملا کہ تم ان کو ملیا میٹ کر دو تو تم انہیں یو نہی چھوڑ کر واپس چلے آئے تا کہ وہ پھر زور پکڑ جائیں۔پس اب بھی موقع ہے واپس چلو اور مدینہ پر حملہ کر کے مسلمانوں کی جڑ کاٹ دو۔ایک گروہ یہ کہتا تھا کہ جو کچھ ہو گیا ہے اسے غنیمت جانو اور مکہ واپس کوٹ چلو۔ایسا نہ ہو کہ یہ شہرت جو تھوڑی سی جنگ کے جیتنے کی حاصل ہوئی ہے یہ بھی کھو بیٹھو اور یہ فتح شکست کی صورت میں بدل جائے لیکن بالآخر جو شیلے لوگوں کی رائے غالب آئی اور قریش مدینہ کی طرف لوٹنے کے لیے تیار ہو گئے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو جب ان واقعات کی اطلاع ہوئی تو آپ نے فوراً اعلان فرمایا کہ مسلمان تیار ہو جائیں مگر ساتھ ہی یہ حکم بھی دیا کہ سوائے ان لوگوں کے جو اُحد میں شریک ہوئے تھے اور کوئی ہمارے ساتھ نہ نکلے۔(معجم البلدان جلد 2 صفحه 346 حمراء الاسد دار الكتب العلمية بيروت) (ماخوذ از سیرت خاتم النبیین صلی علی کلم از حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم۔اے صفحہ 504)