خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء) — Page 317
خطبات مسرور جلد 19 317 خطبہ جمعہ فرمودہ مور محہ 28 مئی 2021ء خلیفہ کی کیا ضرورت ہے ؟ اس کے لیے کسی خلیفہ کی ضرورت نہیں۔فرمایا اس کے لیے تو کسی خلیفہ کی ضرورت نہیں اور میں اس قسم کی بیعت پر تھوکتا بھی نہیں کہ اس طرح کی بیعت لوں۔بیعت وہی ہے جس میں کامل اطاعت کی جائے اور جس میں خلیفہ کے کسی ایک حکم سے بھی انحراف نہ کیا جائے۔(ماخوذ از تاریخ احمدیت جلد 3 صفحہ 262) پس اس خطاب نے جہاں منافقین کے منصوبے ناکام و نامراد کر دیے وہاں مخالفین کے منہ بھی بند کر دیے اور جس شخص کو بوڑھا کمزور شخص سمجھتے تھے وہ جب خدا تعالیٰ کی تائید سے بولا تو ایسا بولا کہ سب جھاگ کی طرح بیٹھ گئے۔تعلمیاں کرنے والے اپنا منہ چھپانے لگے۔مخلصین جماعت نے ایک نئے عزم کے ساتھ بیعت کا عہد کیا اور پھر دنیا نے دیکھا کہ کس طرح جماعت ترقی کی طرف رواں دواں ہو گئی۔پھر جب مارچ 1914ء میں حضرت خلیفۃ المسیح الاول کا وصال ہو ا تو اس وقت جماعت میں پھر ایک زلزلہ کی کیفیت پیدا ہوئی۔انجمن کے جو عمائدین انجمن کو ہی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا اصل جانشین منوانے پر تلے ہوئے تھے اور حضرت خلیفۃ المسیح الاول کی وجہ سے خاموش ہو گئے تھے پھر سر اٹھانے لگے۔اسی طرح منافقین نے بھی سر اٹھانے کی کوشش کی لیکن پھر اللہ تعالیٰ کی مدد اور نصرت کا ہاتھ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے کیے ہوئے وعدے کے مطابق خلافت کے منصب کو سنبھالنے کا ذریعہ بنا۔انجمن کے عمائدین کو خطرہ تھا کہ جماعت حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد کو اگلا خلیفہ منتخب کر لے گی۔اس لیے انہوں نے بہت کوشش کی کہ خلیفہ نہ ہو۔کسی نہ کسی طرح یہ بات ٹل جائے چاہے کچھ عرصہ کے لیے ہی سہی۔حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد نے صاف کہا کہ خلیفہ تو بہر حال ہونا چاہیے لیکن ساتھ ہی یہ بھی میں واضح کر دیتا ہوں کہ مجھے کوئی شوق نہیں کہ میں خلیفہ بنوں۔تم جسے چاہو خلیفہ بنالو میں اور میرا پورا خاندان اس کی سچے دل سے بیعت کرلیں گے۔لیکن یہ لوگ جو اپنے آپ کو عقل کل سمجھتے تھے اور ان کو خطرہ بھی تھا کہ فیصلہ تو ان کے حق میں ہی ہونا ہے، جو صرف اقتدار چاہنے والے تھے وہ یہ بات نہیں مانے۔حضرت خلیفة المسیح الثانی حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد نے جب کہا کہ میں کسی کی بھی بیعت کرنے کے لیے تیار ہوں تم جس کو مقرر کرو لیکن خلیفہ بہر حال ہونا چاہیے تو وہ یہ بات نہیں مانے۔بہر حال پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وصیت کے مطابق مومنین کی جماعت مسجد نور میں اکٹھی ہوئی اور یہ کم و بیش تقریباًدو ہزار یا زیادہ لوگ ہوں گے۔سب نے حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد کو اپنا خلیفہ منتخب کر لیا اور لوگ ایک دوسرے کے سروں پر سے پھلانگتے ہوئے بیعت کے لیے آگے بڑھ رہے تھے۔دیکھنے والے لکھتے ہیں کہ لگتا تھا کہ فرشتے لوگوں کو پکڑ پکڑ کر اللہ تعالیٰ کے اس انتخاب کی بیعت میں لا رہے ہیں۔(ماخوذ از سلسلہ احمدیہ جلد اول صفحہ 330-331) آخر یہ سب کچھ دیکھ کر انجمن کے بعض عمائدین، ان میں سے جو بڑے بڑے چند لوگ تھے ، انجمن کا تمام خزانہ لے کر وہاں سے غائب ہو گئے لیکن دنیا نے دیکھا کہ کس طرح خلافت احمدیہ کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے جماعت کو تمکنت عطا فرمائی۔