خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء) — Page 318
خطبات مسرور جلد 19 318 به فرمودہ مورخہ 28 مئی 2021ء حضرت مصلح موعود خلیفة المسیح الثانی کا باون سالہ دور خلافت اس بات کا گواہ ہے کہ وہ نوجوان جس کے سپر د اللہ تعالیٰ نے خلافت کی باگ ڈور کی، کس تیزی سے جماعت کو لے کر ترقی کی منزلوں پر قدم مارتے ہوئے بڑھتا چلا گیا۔وہ لوگ جو انجمن کا خزانہ خالی کر کے گئے تھے اور یہ دعوی کرتے تھے کہ قادیان میں اب عیسائیوں کی حکومت ہو گی۔ہم تو یہ دیکھ رہے ہیں کہ آج ان کی نسلیں دیکھ رہی ہیں کہ خلافتِ احمدیہ کے ساتھ جو اللہ تعالیٰ کی تائیدات ہیں وہ ہمیں عیسائیوں کو مسیح محمدی کے جھنڈے تلے جمع ہوتے دکھارہی ہیں۔حضرت مصلح موعودؓ نے دنیا کے بے شمار ملکوں میں مشن کھولے۔افریقہ میں عیسائی مبلغین کو احمدی مبلغین کے سامنے کھڑے ہونے کی جرآت نہیں ہوتی تھی۔آخر انہیں تسلیم کرنا پڑا کہ عیسائیت کے پھیلاؤ میں احمدیت ایک بہت بڑی روک ہے اور اس کا ان کی رپورٹوں میں ذکر ہے۔غرض ہم دیکھتے ہیں کہ قادیان پر حملے کے منصوبے ہوں یا تبلیغ کا میدان ہو یا ہجرت کا وقت ہو ہر موقع پر اس اولو العزم خلیفہ نے جماعت کی کشتی کو اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت کے ساتھ کامیابی کی منزلوں تک پہنچایا اور محفوظ رکھا۔آخر الہی تقدیر کے مطابق نومبر 1965ء میں جب آپ کی وفات ہوئی تو الہی وعدوں کے مطابق اللہ تعالیٰ نے قدرتِ ثانیہ کے تیسرے مظہر کو کھڑا کیا۔پھر جماعت کو اللہ تعالیٰ نے خوف سے امن میں لاتے ہوئے حضرت مرزا ناصر احمد خلیفۃ المسیح الثالث کے ہاتھ پر اکٹھا کر دیا اور پھر جماعت ترقی کی منزلوں پر قدم مارنے لگی۔افریقہ میں سکول اور ہسپتال جاری ہونے کا ایک نیا دور شروع ہوا۔احمدیت کے افریقہ میں تعارف کا ایک نیا دور شروع ہوا۔دنیا میں جماعت کا تعارف بڑھنے لگا۔خلیفة المسیح الثالث " کا افریقہ کے بعض ممالک کا پہلا دورہ ہوا جس کے غیر معمولی اثرات نظر آنے لگے۔کسی بھی خلیفہ کا افریقہ کے ممالک میں یہ پہلا دورہ تھا جو خلیفة المسیح الثالث " نے کیا۔1974ء میں حکومتِ وقت نے احمدیوں کے خلاف ایک سخت مہم چلا کر احمدیوں کے خلاف غیر مسلم ہونے کا قانون پاس کیا تو خلافت کی ڈھال کے پیچھے اس خوفناک حملے سے بھی جماعت کامیاب ہو کر نکلی اور دشمن کی جماعت کی ترقی کو روکنے کی کوشش ناکام و نامراد ہوئی۔دشمن جو جماعت کے ہاتھوں میں کشکول دینے کی باتیں کرتا تھا اس کی خواہش خاک میں مل گئی اور اللہ تعالیٰ نے مالی کشائش کے نئے نئے رستے کھول دیے۔لوگوں کو ، جماعت کے افراد کو جو معاشی لحاظ سے بالکل ہی کر یپل (cripple) کر دیا گیا تھا یا کوشش کی تھی کہ ختم کر دیں ان لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے مالی کشائش بھی عطا فرمائی اور پھر باہر نکلنے کے رستے بھی کھولے۔پس وہ لوگ جو 74ء کے بعد جرمنی میں اور بعض دوسری جگہوں پر باہر آئے ہیں ان کو مالی کشائش ملی ہے ان کو یہ باتیں اپنی نسلوں اور اولاد کو بھی بتانی چاہئیں کہ کس طرح دشمن نے ایک کوشش کی تھی اور کس طرح خلافت کے سائے تلے پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے نئے رستے کھولے اور پہلے سے ہزاروں گنازیادہ مالی کشائش عطا فرما دی۔پھر جون 1982ء میں حضرت خلیفة المسیح الثالث بھی ہم سے رخصت ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے پھر اپنے وعدے کے مطابق حضرت مرزا طاہر احمد خلیفۃ المسیح الرابع کے ذریعہ جماعت کے خوف کو امن میں بدلا۔دشمن جماعت کی ترقی کو دیکھ کر اس وقت حواس باختہ ہو چکا تھا۔اس نے نئے سرے سے حملے کا منصوبہ بنایا اور کوشش کی کہ