خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 316 of 917

خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء) — Page 316

خطبات مسرور جلد 19 316 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 28 مئی 2021 ء حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات پر کہتے تھے کہ ان کا سر کٹ گیا ہے اور اب ان کے پاس کچھ نہیں رہا۔کچھ باتیں تو میں نے پہلے بیان کیں کہ یہ چھوڑ دیں۔اب کوئی ان کو سنبھال نہیں سکے گا۔پھر حضرت خلیفۃ المسیح الاول کے بارے میں اخبار کرزن گزٹ نے لکھا کہ اب مرزائیوں میں کیا رہ گیا ہے۔ان کا سرکٹ چکا ہے۔حضرت خلیفۃ المسیح الاول کی خلافت کے بعد یہ لکھا کہ ایک شخص جو ان کا امام بنا ہے اس سے اور تو کچھ نہیں ہو گا۔ہاں یہ کہ وہ تمہیں مسجد میں قرآن سنایا کرے گا۔لیکن ان عقل کے اندھوں کو کیا پتہ تھا کہ یہی تو وہ عظیم کام ہے جس کے کرنے کے لیے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی نسل میں سے ایک عظیم رسول مبعوث ہونے کی دعا مانگی تھی اور یہی وہ عظیم شریعت ہے جسے لے کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے تھے اور یہی وہ کامل اور مکمل کتاب ہے جس کو پڑھنے اور پڑھانے والے دنیا و آخرت میں بامراد ہوتے ہیں۔یہی تو وہ کتاب ہے جس کی تعلیم کو پھیلانے کے لیے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مبعوث ہوئے تھے اور یہی کام ہے جس کے کرنے کے لیے خلافت کا نظام جاری ہوا ہے۔بہر حال ان کی یہ بات سن کر حضرت خلیفۃ المسیح الاول نے فرمایا کہ خدا کرے کہ یہی ہو کہ میں تمہیں قرآن ہی سنایا کروں۔(ماخوذ از بدر قادیان 7 / جنوری 1909ء جلد 8 شمارہ نمبر 10 صفحہ 5) یہ کام تو حضرت خلیفۃ المسیح الاول نے کیا اور خوب کیا لیکن دشمن کا جو یہ خیال تھا کہ اب جماعت میں انتظامی کمزوریاں پیدا ہو جائیں گی اور اس کا شیرازہ بکھر جائے گا اس کے دیکھنے کی انہیں حسرت ہی رہی۔حضرت خلیفۃ المسیح الاول نے منافقین اور انجمن کے بعض عمائدین کے فتنوں کو اس سختی سے دبایا کہ کسی کو جرات نہیں ہوئی کہ کسی قسم کا شر پیدا کر سکے۔آپ نے اپنی خلافت کی پہلی تقریر میں فرمایا کہ " اب تمہاری طبیعتوں کے رخ خواہ کسی طرف ہوں تمہیں میرے احکام کی تعمیل کرنی ہو گی۔" (بدر قادیان 2 جون 1908ء شمارہ نمبر 22 جلد 7 صفحہ 8) پھر آپ نے ایک موقع پر مسجد مبارک میں بڑے جلالی رنگ میں تقریر کرتے ہوئے فرمایا کہ تم نے اپنے عمل سے مجھے اتناد کھ دیا ہے کہ میں اس حصہ مسجد میں بھی کھڑا نہیں ہوا جو تم لوگوں کا بنایا ہوا ہے بلکہ میں اپنے مرزا کی مسجد میں کھڑا ہوا ہوں یعنی وہ حصہ مسجد جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وقت میں ابتدا میں بنا ہوا تھا آپ وہاں کھڑے تھے نہ کہ اس حصہ میں کہ جس کی بعد میں جماعت کے چندوں سے ایکسٹینشن ہوئی۔آپؐ نے فرمایا کہ میں تو وہاں بھی نہیں کھڑا ہوتا۔میں تو اصل حصہ مسجد میں کھڑا ہوں جو مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے کا بنا ہوا ہے یا آپ کے ابتدا میں تھا بعد کی ایکسٹینشن نہیں تھی۔اور فرمایا کہ میرا فیصلہ ہے کہ قوم اور انجمن دونوں کا خلیفہ مطاع ہے اور یہ دونوں خادم ہیں یعنی انجمن بھی، ماننے والے بھی یہ سب خادم ہیں۔انجمن مشیر ہے۔ہاں مشیر کے طور پر انجمن سے مشورہ لیا جاتا ہے اور یہ مشورہ بھی ضروری چیز ہوتا ہے۔اسی طرح یہ بھی فرمایا کہ جس نے یہ لکھا ہے کہ خلیفہ کا کام بیعت لینا ہے، اصل حاکم انجمن ہے وہ تو بہ کرے۔خدا نے مجھے خبر دی ہے کہ اگر اس جماعت میں سے کوئی تجھے چھوڑ کر مرتد ہو جائے گا تو میں اس کے بدلے تجھے ایک جماعت دوں گا۔پھر فرمایا کہ کہا جاتا ہے کہ خلیفہ کا کام صرف نماز پڑھانا یا نکاح پڑھا دینا یا پھر بیعت لے لینا ہے۔یہ کام تو ایک ملاں بھی کر سکتا ہے۔اس کے لیے